تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 36 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 36

۳۶ اور ہم جو کچھ کہتے ہیں علم حساب کی رو سے کہتے ہیں۔بہر حال اب ایک ایسی رو چل پڑی ہے کہ وہ بات جس کے متعلق سو سال سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس کے بغیر علم مکمل ہی نہیں ہو سکتا اب اسی کو رو کرنے والے اور علوم ظاہر ہو رہے ہیں۔اسی طرح نیوٹن کی تھیوری جو کشش ثقل کے متعلق تھی ایک لمبے عرصے تک قائم رہی۔مگر اب آئن سٹائن کے نظریہ نے اس کا بہت سا حصہ باطل کر دیا ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ جن باتوں سے دنیا مرعوب ہو جاتی ہے وہ بسا اوقات محض باطل ہوتی ہیں۔اور ان کا لوگوں کے دلوں پر اثر نئے علم کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اپنی جہالت اور کم علمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔جب دنیا میں ہمیں یہ حالات نظر آرہے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ مسائل جنہوں نے سینکڑوں سال تک دنیا پر حکومت کی ہمارے پروفیسر دلیری سے یہ کوشش نہ کریں کہ بجائے اس کے کہ بعد میں بعض اور علوم ان کو باطل کر دیں ہماری انسٹی ٹیوٹ پہلے ہی ان کا غلط ہو تا ہر کہ دے اور ثابت کر دے کہ اسلام پر ان عادم کے ذریعہ جو حملے کئے جاتے ہیں وہ درست نہیں ہیں اگر وہ کوشش کریں تو میرے نزدیک ان کا اس کام میں کامیاب ہو جانا کوئی مشکل امر نہیں بلکہ بغدا کی مدد سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دین قائم کیا ہے اس کی مدد سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو روشنی لائے ہیں اس کی مدد سے اور احمدیت نے جو ماحول پیدا کیا ہے اس کی مدد سے وہ بہت بھلہ اس میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور جو کام اور لوگوں سے دس گنا عرصہ میں بھی نہیں ہو سکتا وہ ہمارے پروفیسر قلیل سے قلیل مدت میں سر انجام دے سکتے ہیں۔پس میری عرض کالج کے قیام سے ایک یہ بھی ہے کہ ہمیں ایک ایسا مرکز مل جائے جس میں ہم بیچ کے طور پر ان تمام باتوں کو قائم کر دیں تاکہ آہستہ آہستہ اس بیچ کے ذریعہ ایک ایسا درخت قائم ہو جائے، ایک ایسا نظام قائم ہو جائے، ایک ایسا ماحول قائم ہو جائے بھو اسلام کی مدد کرنے والا ہو جیسے یوروین نظام اسلام کے خلاف حملہ کرنے کے لئے دنیا میں قائم ہے۔پس ہمارے کالج سے منتظمین کو مختلف علوم کے پروفیسروں کی ایسی سوسائٹیاں قائم کرنی چاہتیں تین کی عرض یہ ہو کہ اسلام اور احمدیت کے خلاف بڑے بڑے علوم کے ذریعہ جو اختر اعضا کئے جاتے ہیں ان کا دفعیہ انہی علوم کے ذریعہ کریں۔اور اگر وہ دیکھیں کہ موجودہ علوم کی مدد سے