تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 498 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 498

۴۸۶ شرکت کے لئے پہنچ گئے۔تین بجے جنازہ یا ہر لایا گیا۔اس وقت تک احمدی احباب کی کثیر تعداد جمع ہو ٹھیکی تھی۔جنازہ کو بھی کی بیرونی ڈیوڑھی میں رکھا گیا۔جہاں ہزاروں احباب نے ایک ترتیب کے ساتھ حضرت نواب صاحب کی آخری زیارت کی۔اس کے بعد چار پانی کے ساتھ لیے بانس باندھ دیئے گئے۔تاکہ کندھا دینے والوں کو سہولت ہو۔حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے جنازہ کو کندھا دیا۔اور جنازہ گاہ تک ہزاروں افراد نے کندھا دینے کا ثواب حاصل کیا۔جنازہ دار الفضل اور دارالعلوم کی درمیانی سڑک پر سے شہر اور پھر وہاں سے باغ متصل مقبرہ بہشتی لے جایا گیا۔جہاں جانب غرب نمازہ جنازہ پڑھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔قریبا تین ہزارہ افراد شریک ہوئے۔نماز جنازہ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ہو نے پڑھائی اور تمام مجمع نے رقت اور خشیت کے ساتھ حضرت نواب صاحب کے لئے دعائیں کیں۔بعد ازاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار والے احاطہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم و مغفور کے بائیں جانب آپ کو دفن کیا گیا۔لے ولی عہد ریاست مالیر کوٹلہ کی قادریان - تبلیغ فروری یا تو ان کو حضرت نواب صاحب کی تعزیت کے لئے ہز ہائینس نواب صاحب مالیر کوٹلہ میں بغرض تعریت التشریف آوری نر با نی نواب احد احد علی خالصاحب ) کی طرف سے د ہز ریاست کے دیہہ نواب زادہ افتخار علی خان صاحب بذریعہ موثر قادیان تشریف لائے آپ کے ساتھ ہزہائی نس نصاب صاحب آف مالیر کوٹلہ کے میر منشی جناب عبد الہ شاہ صا یہ بھی تھے۔ان کے علاوہ سر ذو الفقار علی خان کے دوسرے فرزند نوابزادہ رشید ایمان بھی تشریف لائے۔کے ر تبلیغ ضروری سم میں کو ہنر ہائی نس کے چھوٹے صاحبزادہ نوابزادہ الطاف علی خانصاحب مع اپنی ہمشیرہ کے بذریعہ کا۔تشریف لائے۔کے مزار کا کتبہ حضرت نواب صاحب کے مزار مبارک پرجو کتبہ نصب کیا گیا اس کی عبارت حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے تجویز فرمائی تھی جو یہ ہے :- ه - افضل ۱۲ تبلیغ / فروری پیش کے۔الفضل ما تبلیغ فروری وان ست کالم او گے۔الفضل دار " ص کالم ۲۔!