تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 475 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 475

۴۶۳ انکسار کی وجہ سے خود کوئی فیصلہ فرماتے ہی نہیں تھے اور چونکہ ہر امر میں اپنے قریبی مشیران کی رائے کو قبول فرماتے تھے۔اس لئے تفاصیل پر غور کرنے بلکہ تفاصیل کا علم حاصل کرنے سے بھی پی سیز کرتے تھے۔ان ایام میں ان کے قریب ترین مشیران جناب میاں ممتاز محمد بخال صاحب دولتانہ اور جناب سردار شرکت حیات خان صاحب تھے۔جناب سردار صاحب کی طبیعت علیل تھی۔جناب میاں صاحب کی خدمت میں خاکسار نے گذارش کی کہ میرے تحریری بیان تیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس امر کا فیصلہ کیا جائے کہ ملحقہ اکثریت کے علاقوں کی تشخیص کے لائے ہماری طرف سے کیا معیار پیش کیا جائے۔انہوں نے فرمایا تم سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔جو تم تجویز کرو وہی بہتر ہوگا۔میں نے کہا یہ امر لیگ کی طرف سے طے ہونا چاہئیے ہیں تو ایک فرد واحد ہوں اور میری حیثیت وکیل کی ہے۔مجھے جو ہدایات لیگ کی طرف سے دی جائیں مجھے ان کی پابندی کرنا ہو گی۔جناب میاں صاحب نے میری رائے دریافت کی میں نے مختصر طور پر اپنا اور اپنے رفقائے کار کا رحجان بیان کر دیا۔جناب میاں صاحب نے فرمایا تو بس یہی ٹھیک ہے۔اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے۔بعد میں قسم قسم کی قیاس آرائیاں کی گئی ہیں جن کی بنیاد کسی حقیقت پر نہیں۔کہا گیا ہے کہ چونکہ جناب نواب صاحب ممدوٹ کی خاندانی جاگیر کا بیشتر حصہ تحصیلواً بٹوارے میں پاکستان میں شامل کئے بجانے کی امید کی جا سکتی تھی اس لئے انہوں نے تحصیل وار بٹوارے پر زور دیا۔یہ محض انتہام ہے اور بالکل بے بنیاد اتہام ہے۔خاکسار کی دانست میں جناب نواب مصلحب ان تفاصیل سے بالکل ناواقف تھے اور اگر واقف تھے بھی تو یہ واقعہ ہے کہ ان کی طرف سے خاکسار کو ایک لفظ بھی اس بارے میں نہیں کہا گیا۔نہ خاکسار نے ان سے دریافت کیا نہ انہوں نے خود کچھ فرمایا نہ کسی قسم کا اشارہ کیا حقیقت یہ ہے کہ یہ سب واقعات اس سرعت سے پیش آتے گئے اور صوبے کے حالات میں اس تیزی کے ساتھ ابتری پیدا ہونا شروع ہو گئی کہ طبائع میں انتشار اور سر آمیگی سرائت پذیر ہوتے گئے اور کسی امر پر سنجیدگی سے غور کرنا مشکل ہوتا چلا گیا۔ان امور کے متعلق پہلے سے کوئی شیاری نہیں کی گئی تھی نہ اُن پر سنجیدہ غور ہوا تھا اس لئے فیصلہ مشکل تھا۔بعد کے پیدا ہونے والے حالات ابھی پردہ غیب میں تھے۔اس وقت ان کے متعلق صحیح اندازہ ممکن نہیں تھا۔آرزوؤں اور بعد شات ، قیاست اور تخیلات کی فراوانی تھی صحائف اور جرائد انہی سے پُر تھے۔آج ہو ابوالحکم ہونے کے مدعی ہیں اس وقت نیا موش اور دم بخود تھے۔