تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 460 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 460

فرمایا ہے صوبہ میں اس تقسیم کی بنیاد غیر مسلموں کی اکثریت والے علاقے ہیں۔پس غیر مسلم اصحاب کا اس بنیاد کو چھوڑ کر دوسرے معیار اختیار کرنا اور اس طرح مسلمانوں کے ساتھ کشمکش اور تعصب کی فضا پیدا کرنا ہرگز درست نہیں۔۲۸- پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئیے کہ مشرقی پنجاب نے بھارت کی حکومت کا ایک حصہ بننا منظور کیا ہے اور اس لحاظ سے وہ اپنی آبادی ، وسائل اور سرحدات کے اعتبار سے بھارت کی حکومت کا ایک نہایت موثر اور دور رس جزو بن جائے گا۔یہ پوزیشن پاکستان کے دونوں حصوں میں سے کسی ایک صوبے کو بھی اتنی مستحکم طور پر حاصل نہیں ہوگی کیونکہ پاکستان کے وسائل ہندوستان کے مقابلہ میں نسبتاً بہت تھوڑے ہوں گے۔پس " آبادی کی اکثریت والے معیالہ کو چھوڑ کر دوسری بنیادوں کو وقوع میں لانا فقط اس لئے کہ مشرقی پنجاب کی سرحدات اور زیادہ آگے بڑھ بھائیں یا یہ علاقہ مغربی پنجاب کے تھوڑے سے علاقے میں سے بھی کچھ اور ہتھیا ہے، ہرگز قرین انصاف نہیں۔بھارت کی حکومت کے پاس تو پہلے ہی اتنا علاقہ ہے اور اتنے وسائل ہیں کہ وہ پاکستان کے علاقے سے وائیلی اور اس کے رقبے سے کہیں زیادہ ہے۔۲۹۔یہاں ایک اور بات بھی خصوصیت سے نوٹ کرنے کے قابل ہے اور وہ یہ ہے کہ سیکھ صاحبان نے اپنے آپ کو بحیثیت قوم ہندو قوم میں مدغم ہونا قبول کر لیا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ ان کے نزدیک ان کے قومی مفادات وہی ہیں جو ہندو قوم کے ہیں۔پس جب وہ اپنے قومی مفادات کو ہندو مفادات میں مدغم کر دینا پسند کرتے ہیں تو پھر علی طور پر اپنے مخصوص مطالبات کیوں پیش کرتے ہیں ؟ آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟ اگر تقسیم خود ان پر ٹھونسی بھاتی اور اس لحاظ سے وہ محسوس کرتے کہ وہ ایک کمزور اقلیت کی شکل میں تبدیل ہو گئے ہیں تب تو علیحدہ طور پر ان کے مطالبات کا پیش کیا جانا معقول بھی تھا۔اور مناسب بھی لیکن سیکھوں نے تقسیم کا مطالبہ خود کیا ہے اور انہوں نے پنجاب کی تقسیم کے معاملہ میں بھی ہندوؤں کی مکمل ہمنوائی کی ہے۔لہذا تقسیم کے مقاصد کے پیش نظر ہم سکھوں کو کوئی علیحدہ حیثیت ہر گز نہیں دے سکتے۔وہ اصولی طور پر غیر مسلم بلاک میں ہی شامل ہیں کیونکہ انہوں نے خود اس میں شامل ہونا پسند کیا ہے۔۳۰۔اس میمورنڈم کے آغاز میں تقسیم کی جو بنیاد اتجویز کی گئی ہے وہ دونوں صوبوں میں تحصیل دار مسلمانون "