تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 459 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 459

ملکیت تھے اور ان مسلمان قبائل کا گزارہ ان کے مویشیوں پر اور ان کی زرعی زمینوں پر موقوف تھا۔لیکن جنب ان علاقوں میں نہری آبپاشی کا طریق رائج ہوا تو یہ تمام علاقہ حکومت کی ملکیت قرار دے دیا گیا اور اسے دوسرے اضلاع کے لوگوں کو ہاتھ یا تو فروخت کر دیا گیا یا بطور عطیہ جات دے دیا گیا۔یہ حقیقت اتنی درد انگیز ہے کہ ان علاقوں کے مسلمان مالکان اراضی اس پر انتہائی احتجاج کرتے آئے ہیں۔بہت سے غیر مسلم اصحاب جنہوں نے مذکورہ بالا اضلاع میں اراضی خرید کی اور پھر اس نچہ مالکانہ حقوق حاصل کئے۔انہوں نے اس زمین کی قیمت اس روپیہ میں سے دی جو وہ سودی کاروبارہ کے ذریعے مصل کر چکے تھے۔اس کاروبار کی تفصیل خود حکومت کے کاغذات ہی سے حاصل کی جاسکتی ہے اور یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ غریب کسان جو ان زمینوں پر آباد تھے بنیوں کے سودی ہتھکنڈوں میں پھنس کو غربت، افلاس اور محرومی کی کسی خطرناک حد تک پہنچ گئے تھے۔واقعہ یہ ہے کہ ان لوگوں کی حالت زار اس قدر نازک اور اتنی نا گفتہ بہ ہو چکی تھی کہ حکومت کو بھی غلات کرنا پڑی اور سنتشار میں ایک قانون پنجاب اراضی ایکٹ نشانہ بنایا گیا جس کی رو سے سودی بنیاد پر زمین کا حصول ناجائز قرار دیا گیا۔اس کے باوجود صورت حال کچھ زیادہ بہتر نہیں ہوئی مسٹر کیلورٹ اور سر سیکیم ڈارلنگ کی تحقیقاتی رپورٹوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں کسانوں کی حالت بدستور ابتر رہی بحثی که صرف چند برس پیشتر پنجاب کی قانون ساز اسمبلی کو ایسے اقدامات اختیار کرنے پڑے جن سے ان عام زمینداروں اور مزار مین کو اشک شوئی کے طور پر کچھ امداد عن التصو تھی اور ان کی تکالیف کا کسی قدر ازالہ ہوتا تھا۔لہذا ایسے حالات میں ان تمام حقائق کے باوجود اگر تقسیم کی بنیاد پھر بھی جائداد ہی تصور کی بجائے تو یہ زخموں پر نمک چھڑکنے والی بات ہوگی۔۲۶ - جہانتک مغربی پنجاب کا تعلق ہے میں واضح طور پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مغربی پنجاب میں کسی فرقے کے ساتھ اس کی حملو کہ بجائداد کی بنیاد پر سلوک نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی وہاں کی حکومت کسی کی جائداد میں مداخلت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔لہذا جائداد کو پنجاب کے دو حصوں کی تقسیم کی بنیاد قرار دینا بالکل بعید از قیاس ہے۔۲۷۔اس ضمن میں اس امر کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ غیر مسلم اصحاب یا سکھ صاحبان پر پنجاب کی تقسیم ٹھونسی نہیں جا رہی بلکہ اس تقسیم کا مطالبہ وہ خود کر رہے ہیں اور جیسا کہ وائسرائے صاحب نے اعلان