تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 432 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 432

۲۰ اور بعض دوسری قوموں کے لوگ بھی کچھ رتبے پر سکونت رکھتے ہیں لیکن جب ایک واضح اکثریت ہمارے سامنے ہو تو ایک معمولی سے حصّے پر قابض اثلیت اس کے مقابلے پر کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور پھر ایک اور طریق سے بھی اگر اس صورت حال کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ علاقہ مسلم اکثریت والا علاقہ جسٹس محمد منیر: میرا خیال ہے کہ جس انداز سے فریق مخالف نے یہ معاملہ پیش کیا ہے آپ نے اس پر غور نہیں کیا۔شیخ بشیر احمد میں اس وقت یہاں موجود نہیں تھا۔جسٹس محمد منیر: وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر اس تحصیل سے صرف تین ایسے قصبات الگ کر لئے جائیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے یعنی قادیان - بٹالہ اور فتح گڑھ چوڑیاں۔تو باقی تمام تحصیل تغیر مسلم اکثریت والا علاقہ “ بن جاتی ہے۔شیخ بشیر احمد جناب میری عرض یہ ہے کہ اس قسم کے قصبات کو الگ کرنے کے لئے کوئی اصول یا معیار بھی تو ہو۔آخریہ کیسے معلوم کیا جائے کہ فلاں علاقہ " مسلم اکثریت والا ہے یا غیر مسلم اکثریت والا ہے میری گذارش یہ ہے کہ خواہ آپ تھانہ بطور یونرہ تسلیم کریں یا قانونگو رقبہ " بطور یونٹ تسلیم کریں خواہ آپ ذیل" کو معیار مائیں یا تحصیل کو۔آپ کو بہر حال کوئی نہ کوئی اصول بطور " بنیاد" کے ماننا پڑیگا یہ ہمارے لئے ممکن نہیں کہ ہم۔جسٹس دین محمد : کل آپ ہمارے سامنے منفضل نقشہ پیش فرمائیں۔شیخ بشیر احمد جہانتک دوسرے امور" کا تعلق ہے میں آپ کے سامنے سکھوں کے دعوئی کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔گل شکانہ صاحب اور امرتسر میں سکھوں کے مقدس مقامات کے متعلق اچھی خاصی بحث ہوئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ نکانہ صاحب حضرت بابا گورو نانک کی جنم بھومی ہے۔نیز امرتسر اور سری گوبند پور میں سکھوں کے مقدس تاریخی مقامات ہیں۔ان تاریخی مقامات کا ذکر سکو میمورنڈم کے صفحه ۵۲ اور پیرا گراف اھ میں یوں کیا گیا ہے :- دیکھوں کے لئے نہرا پر باری دوآب کا متصل علاقہ نہایت درجہ اہمیت رکھتا ہے۔امرت سر جہاں سیکھوں کا مشہور شہری گوردوارہ (دربار صاحب) واقع ہے سیکھ مذہب کی روایات اور