تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 26 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 26

۲۶ کی کالج کی ابتدائی حالت کے پیش نظر یہ خیال رکھا گیا کہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو لیا جائے۔داخلہ کی آخر کی تایی که در انسان اخون مقر ر کھتی۔پہلے سال ۸۰ طلبہ نے داخلہ لیا۔ر ہائی کلاستر کے دوبارہ سکول کی طرف منتقل ہونے کی وجہ سے کالج کے پاس سکول کی بلڈنگ کے کچھ حصہ کے سوا اور کسی قسم کا کوئی سامان سمتی کہ طلبہ کے لئے ڈیسک اور نیچ، پروفیسر صاحبان کے لئے کرسیاں میزیں، اور کلاس رومز کے لئے بلیک بورڈ تک موجود نہ تھے۔فوری ضرورت کو پورا کرنے کے لئے دفتر خدام الاحمدیہ سے دو میزیں بارہ کرسیاں اور ہائی سکول سے ۱۲۰ طلبہ کے لئے نشستوں کا انتظام کیا گیا ہے فضل عمر ہوسٹل کا قیام و و و و ور رسول کا قیام دارای نوار کے گیٹ ر انی کو فضل کا ہاؤس میں ہوا۔سیدنا المصلح الموعود نے چوہدری محمد علی صاحب ایم۔اے کو اس کا سپر نٹنڈنٹ مقرر فرمایا۔اس مرکزی دارالاقامہ کی ابتداء انتہائی مختصر صورت میں ہوئی۔تین کمرے ہوسٹل کے لئے خالی کر دیئے گئے۔نہ چار پائیاں تھیں نہ باورچی خانہ کا انتظام محلہ والوں سے پیار پائیاں مانگی گئیں۔اور کھانے کا انتظام پہلے مدرسہ احمدیہ کے بورڈنگ ہاؤس میں کرنا پڑا۔دو ہفتہ ہوں۔دارالواقفین کے مطبخ کی طرف رجوع کیا گیا۔اسی اثناء میں حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود نے یکمال شفقت اپنی کو بھی بیت الحمد کے کچن کو استعمال میں لانے کی اجازت دی جہاں کھانا باقاعدہ تیار ہونے لگا۔جب طلبہ کی تعداد اندازہ سے بڑھ گئی تو کالج کمیٹی نے " ترجمہ القرآن والا کمرہ بھی خالی کر دیا لیکن اب بھی طالب علموں کی رہائش " کا مسئلہ حل نہ ہوا۔جس پر سید نا المصلح الموعود کی خدمت یا برکت میں بیت الحمد کے تین کمروں کو زیمہ استعمال لانے کی درخواست کی گئی جو تضور نے قبول فرمالی۔اس طرح گو رہائش کی مشکلات پر قابو پا لیا گیا مگر ہوش دو حصوں میں تقسیم ہو جانے سے طلبہ کی تسلی بخش نگرانی میں نمایاں خلل آنے لگا۔تاہم ہوسٹل کے اکثر و بیشتر طلبہ عموماً نمازوں کی پابندی کرتے اور درس قرآن سنتے تھے۔نماز مغرب مسجد مبارک میں پڑھتے اور اس کے بعد سيدنا المصلح الموعود کی مجلس علم و عرفان سے مستفیض ہوتے تھے جو روحانی اعتبار سے ان کے لئے سرمایہ اه حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کا لج قادیان نے ۱۲۰ صلح / جنوری پر میش کو امیرالمومنین حضرت خلیفة المسیح الثاني المصلح الموعود کے حضور کالج کی پہلی رپورٹ ارسال کی۔یہ معلومات اسی رپورٹ سے ماخوذ ہیں ؟ سلئے اسی روز ملک خودم فرید صاحب ایم اے نے پرنسپل صاحب تعلیم الاسلام کالج کی خدمت میں اطلاع دی کہ تعلیم ان اسلام کالج کمیٹی نے اپنے اجلاس مورخہ ہے اس میں یہ تجویز پاس کی تھی کہ گیسٹ ہاؤس واقع دارالا نوار کو تعلیم الاسلام کالج کے ہوسٹل کے طور پر استعمال کیا جائے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ منصرہ نے کمیٹی کی اس تجویز کو منظور فرمالیا ہے۔اس لئے آپ متعلقہ افسران سے ملا کر اس عمارت کو اپنے زیر انتظام کر لیں“ (فائل کا لج کمیٹی)