تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 404 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 404

۳۹۲ موجودگی کے سبب اتنی کم ہو کہ اُسے کوئی اہمیت نہ دی بھا سکتی ہو۔اگران دیگر امور " کو وہی اہمیت حاصل تھی جو آبادی کو ہے تو پھر عارضی تقسیم میں بھی ان کا لحاظ رکھا جاتا۔بجائے اس کے صرف کشن کے دائرہ عمل میں شامل کیا گیا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ آبادی کے ضمن کے طور زیر غور لائے جائیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف دیگر امور" سے مراد وہ کچھوٹی چھوٹی چیزیں تھیں جنہیں حد بندی کے وقت مد نظر رکھا جانا مقصود تھا۔اور یہ بات طے شدہ تھی کہ آبادی کے سوالی کو ہمیشہ فوقیت حاصل رہے گی کمیشن کا تعلق بنیادی طور پر آبادی کے سوال اور اس کے تسلسل سے ہے۔اس امر کو نظر انداز کرنا یا کسی اور امرکو اتنی اہمیت دینا کشن کے اختیارات اور دائرہ اعمل سے باہر ہے۔پولیس کا نفرنس کے موقعہ پر وائسرائے نے صاف طور پر بیان دیا تھا کہ " ملک معظم کی حکومت سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ زرگی جائیداد کی بناء پر تقسیم ملک کی تھا کرے گی۔موجودہ انگریزی حکومت کسی صورت میں بھی ایسا نہیں کر سکتی" اسی پریس کانفرنس میں وائسرائے سے یہ سوال کیا گیا۔ر ٹریبیون" هر جون "ڈان" در جون ۱۹۹) آپ نے اپنی کل کی نشری تقریر میں یہ فرمایا تھا کہ تقسیم شدہ صوبوں کی آخری حد بندی یقینی طور پر اس کے عین مطابق نہیں ہوگی جو عارضی طور پر اختیار کی گئی ہے۔آپ نے ایسا کیوں کہا؟" اس کے جواب میں وائسرائے نے فرمایا :- محض اس وجہ سے کہ گورداسپور کے ضلع میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کی آبادی میں تناسب ۶۴ ۵۰ اور ۶ و ۴۹ ہے اور فرق صرف ۱۸ فیصد کا ہے۔پس یہ ایک عام فہم بات ہے آپ خود سمجھ لیں گے کہ اس کا امکان نہیں کہ کمشن تمام ضلع کو مسلمانوں کی اکثریت والے علاقوں میں شامل کر دے۔اسی طرح سے بنگال کے ایک ضلع میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔میں نہیں چاہتا کہ ان اضلاع کے اقلیتی باشند سے یہ فرض کرلیں کہ یہ ملے شدہ امر ہے کہ ان کو ایسے علاقوں میں شامل کیا جارہا ہے جن میں ان کے فرقے کی اکثریت نہیں ہے" رسول اینڈ ملٹری گزٹ مار جون شاعر ) اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ وائسرائے نے جن اعداد و شمار کا حوالہ دیا ہے یہ درست نہیں