تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 397
۳۸۵ ۱۹۳ مردم شماری کی ان تفصیلات کے علاوہ ترکی عراق حد بندی کے متعلق لیگ آن بیشتر کمیشن ) کی پیش کردہ سفارشات کا مکمل متن بھی موجود ہے جو فل سکیپ سائز کے ۳۱ صفحات پر مشتمل ہے اور اس کے سرورق پہ یہ الفاظ دریج ہیں :- Frontier BETWEEN SETTLEMENT TURKEY AND IRAQ COMMISSION RECOMMENDED BY LEAGUE OF NATIONS TURKO IRAQ ON BOUNDRY 1924-26۔سفارشات حدبندی مابین ترکی د عراق پیش کرده لیگ آف نیشنز کمیشن ۲۶-۱۹۴۴) اس ریکارڈ میں اس معاہدہ کا متن بھی شامل ہے جو ۱۹۳۶ میں کردوں کے متعلق برطانیہ اور عراق کے مابین قرار پایا۔امریکہ سے بین الاقوامی باؤنڈری لٹریچر کی درآمد حضرت مصلح موعود نے مرکز میں کام شروع کرنے کے ساتھ ہی امریکہ اور یورپ کے مبلغین کو فوری اور برطانیہ کے ایک ماہر جغرافیا کی خدا کا اول برای جوانی کرد بین الاقوامی قانون د بدن سے متعلق مشتمل لٹر پھر بھجوانے کے علاوہ کوئی ماہر خصوصی تلاش کریں اور اس سے ہندوستان آنے جانے کے اخراجات اور قیدی کا تصفیہ کر کے اطلاع دیں۔بین الاقوامی باؤنڈری لٹریچر مہیا کرنے اور اس کے ماہر کی تلاش میں جماعت احمدیہ کو کس قدر وقت کا سانا کرنا پڑا۔اس کا کسی قدر اندازه چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ بی۔اے۔ایل ایل بی امام مسجد لندن کے ایک خط مورخہ ۷ ارجون عنہ سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔انہوں نے حضرت سیدنا المصلح الموعود کی قدرت میں لکھا " باؤنڈری کے ماہر کی تلاش جاری ہے۔کل ہماری سائیٹرز کی فرم نے مسٹر کیپویل کے بسی کا نام تجویز کیا جن کو انگلستان کی باؤنڈریز کے معاملات میں ماہر سمجھا جاتا ہے۔سالیسٹر ز نے کل کیپویل کے کلرک کو اور مجھے بلا یا تفصیلی گفتگو کی جا سکے۔ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی حدود کا ماہر یہاں سے کوئی نہیں ہل سکتا لیکن دیگر ذرائع سے تلاش جاری ہے۔لارڈ ہیلی نے خط لکھا ہے کہ وہ فارن آفس انفارمیشن سے پتہ کر سکتے ہیں۔ان کو لکھا گیا ہے کہ وہ پتہ کرا دیں۔یونائیٹڈ نیشنز انفارمیشنز سنٹر والوں نے جنیوا میں لیگ آن نیشنر کے دفتر کو باؤنڈری کمیشن کی رپورٹوں کے بارہ میں لکھنے کو کہا۔" ٹائمز اور نیوز کرانیکل نے تلاش میں مدد دینے