تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 390
۳۷۹ اور سکھ بھی اور اس کے اندر بسنے والے ہندو بھی اور شاید پنجاب کا خمیر آیندہ چل کر ہندوستان کو بھی باہم ملا کر ایک کر دے لیکن جب تک یہ بات میسر نہیں آئی۔اس وقت تک کم از کم مسلمان اور سکھ تو ایک ہو کر رہیں یہ جذبہ خود سمجھدار سکھ لیڈروں میں بھی پیدا ہوتا رہا ہے۔چنانچہ گیانی شیرسنگھ فڑاتے ہیں :- شمالی ہند داستان کے امن کی ضمانت سیکھ مسلم اتحاد ہے۔۔۔اگر کوئی شخص سکھ مسلم فساد کے زہر کا بیج ہوتا ہے تو وہ ملک کا اور خدا کا اور نسل انسانی کا نشیمن ہو اخبار پنجاب امرتسر اور جنوری ) اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہندو کو سہندوستان کے باقی صوبوں میں وطن مل رہا ہے اور مسلمان کو پنجاب وغیرہ میں کیا اچھا ہوتا کہ سکھ بھی اتنی تعداد میں ہوتا اور اس صورت میں آباد ہوتا کہ اُسے بھی ایک وطن مل جاتا۔لیکن افسوس ہے کہ موجودہ حالات میں اس کمی کا ازالہ کسی کے اختیار میں نہیں ہے کیونکہ پنجاب کو خواہ کسی صورت میں بانٹا جائے سکھ بہر حال اقلیت میں رہتا ہے۔بلکہ دو حصوں میں بٹنے سے اپنی طاقت کو اور بھی کم کر دیتا ہے۔تو پھر کیوں نہ وہ اس قوم کے ساتھ جوڑ ملائے جس کے ساتھ اس کا پیوند ایک طبعی رنگ رکھتا ہے اور پھر اس کے بعد محبت اور تعاون کے طریق پر اور ترقی کے پر امن ذرائع کو عمل میں لاکر اپنی قوم کو بڑھائے اور اپنے لئے جتنا بڑا چاہے وطن پیدا کرے۔آج سے پچاس سال قبل سکھ پنجاب میں صرف بین بائیں لاکھ تھے مگر اب اس سے فریبا ڈیو دو گئے ہیں۔اسی طرح آج سے پچائیس سال قبل مسلمان پنجاب میں اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے مگر اب وہ ایک قطعی اکثریت میں ہیں اور اس کے مقابل پر ہندو برابر کم ہوتا گیا ہے۔یہیں اس قدرتی پھیلاؤ اور سکیٹر کو کون روک سکتا ہے؟ پس سیکھوں کو چاہیئے کہ غصہ میں آکر اور وقتی رنجشوں کی رو میں بہہ کر اپنے مستقل مفاد کو نہ بھلائیں۔انہیں کیا خبر ہے کہ آج جس قوم کے ساتھ وہ سمجھوتہ کر کے پنجاب کو دو حصوں میں بانٹنا چاہتے ہیں۔وہ کل کو اپنی وفاداری کا عہد نہ نبھا سکے اور پھر سیکھ نہ ادھر کے رہیں اور نہ اُدھر کے اُن کے لئے بہر حال حفاظت اور ترقی کا ل ہو کتابت سے تیرے لکھا گیا (ناقل)