تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 22
۲۲ سپرد قلم فرمایا جس میں اس نئے مرکزی ادارہ کے خصائص پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سب سے پہلی خصوصیت ہو اس کالج کو حاصل ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے تصرف خاص کے ماتحت اس کے اجراء کو تاریخ احمدیت کے اس زمانہ کے ساتھ پیوند کر دیا ہے ہو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایک اللہ کے دعوئے مصلح موعود کے ماتحت جماعت کے ایک نئے دور کا حکم رکھتا ہے گویا منجملہ دوسری مبارک تحریکات کے جو اس وقت جماعت کے سامنے ہیں اللہ تعالی نے ہمارے اس کالج کو بھی نئے دور کی نشانیوں میں سے ایک نشانی بنا دیا ہے اور اس طرح یہ کالی خدا کے فضل سے گویا اپنے جنم کے ساتھ ہی اپنے ساتھ خاص برکت و سعادت کا پیغام ا رہا ہے۔فاطمہ اللہ علی ذلک۔دوسری خصوصیت اس کالج کو خدا تعالیٰ نے یہ دے دیا ہے کہ وہ تاریخ عالم کے لحاظ سے بھی موجودہ جنگ عظیم کے آخری حصہ میں عالم وجود میں آرہا ہے اور جنگ کا یہ حصہ وہ ہے جبکہ دنیا کے بہترین سیاسی مرتبہ دنیا کے بعد الحرب نئے نظام کے متعلق بڑے غور و خوض سے تجویزیں سوچ رہے اور غیر معمولی اقدامات عمل میں لا رہے ہیں۔اس لحاظ سے ہمارا یہ کالج دو عظیم الشان دینی اور دنیوی تحریکوں کے ساتھ اس طرح مربوط ہو گیا ہے کہ ایک الہی عیت جو بیامر میں خدائی تقدیر کا ہاتھ دیکھنے کی عادی ہوتی ہے اُسے محض ایک اتفاق قرار دے کو نظر انداز نہیں کر سکتی ہے لصلح الموعود کی زبان مبارک سے تعلیم اسلام کالج کا کیا بیدار ہو کہ انتظام اعتبار سے کم نہ ہجرت کالج ماہ الاسلام منی ریش سے ہو چکی تھی اس لئے سید نا حضرت کے لئے طلبہ بھجوانے کی تحریک میں احباب جماعت کو توجہ دلائی کہ 1900 الصلح الموعود نے در ہجرت ۳۳ میش کے خطبہ جمعہ کالج شروع کر دیا گیا ہے۔پروفیسر بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہل گئے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ چندہ جمع کیا جائے اور لڑکو لا کو اس میں تعلیم کے لئے بھیجوایا جائے۔بہر وہ اگدری جس کے شہر میں کالج نہیں وہ اگر اپنے لڑکے کو کسی اور شہر میں تعلیم کے لئے بھیجتا ہے تو کمزور ٹی "الفضل» بر شهادت / اپریل ۳۳ پیش صفحه ۱ - ۲۲