تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 364
کرنا چاہیں۔اگر وہ پہنچنا چاہیں اور اگر وہ گلے ملنا چاہیں تو یہ سب کچھ آج ہی ہو سکتا ہے مگر اس کا صرف اور صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے ذہنیتوں میں تبدیلی۔پس آج یہ سوال نہیں رہا کہ ہمارے ساتھ پاکستان بن جانے کی صورت میں کیا ہوگا، سوال تو یہ ہے کہ اتنے لیے تجربہ کے بعد جبکہ ہند و حاکم تھے ، گو ہند و خود تو حا کم نہ تھے بلکہ انگریز حاکم تھے لیکن ہندو حکومت پر چھائے ہوئے تھے۔جب ہندو ایک ہندو کو اس لئے ملازمت دے دیتے تھے کہ وہ ہن نہرو ہے۔جب ہندو اس لئے ایک ہندو کو ٹھیکہ دے دیتے تھے کہ وہ ہندو ہے اور جب وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں ہندوؤں کو صرف اس لئے قابل اور اہل قرار دیتے تھے کہ وہ ہندو ہیں۔اور جب ہنہ انگریز کی نہیں بلکہ اپنی حکومت سمجھتے ہوئے ہندوؤں سے امتیازی سلوک کرتے تھے اور جب وہ نوکری میں ہندو کو ایک مسلمان پر صرف یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ ہندو ہے فوقیت دیتے تھے اس وقت کے ستائے ہوئے دکھائے ہوئے اور تنگ آئے ہوئے مسلمان اگر اپنے الگ حقوق کا مطالبہ کریں تو کیا ان کا یہ مطالبہ ناجائز ہے ؟ کیا یہ ایک روشن حقیقت نہیں کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا رہا جو نہایت تا واجب نہایت ناروا اور نہایت نا منصه تھا۔حال کا ایک واقعہ ہے۔ہمارا ایک احمدی دوست نویج میں ملازم ہے۔باوجودیکہ اس کے خلاف ایک بھی ریمارک نہ تھا اور دوسری طرف ایک سکھ کے خلاف چار ریمارکس تھے اس سیکھ کو اوپر کر دیا گیا اور احمدی کو گرا دیا گیا جب وہ احمدی انگریز کمانڈر کے پاس پہنچا اور اپنا واقعہ بیان کیا تو اس نے کہا۔واقعی آپ کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔تم درخواست لکھ کر میرے پاس لاؤ لیکن جب وہ احمدی درخواست لے کے انگریز افسر کے پاس پہنچا تو اس نے درخواست اپنے پاس رکھ لی اور اسے اوپر نہ بھیجوایا۔کئی دن کے بعد جب دفتر سے پتہ لیا گیا کہ آخر وجہ کیا ہے کہ درخواست کو اوپر بھجوایا نہیں گیا تو دختر والوں نے بتایا کہ اصل بات یہ ہے کہ شملہ سے آرڈر آگیا ہے کہ کوئی اپیل اس حکم کے خلاف اُوپر نہ بھیجوائی جائے۔جس قوم کے ساتھ اتنا لمبا عرصہ یہ انصاحت برتا گیا ہو گیا وہ اس امر کا مطالبہ نہ کرے گی کہ اسے الگ حکومت دی بھائے۔ان حالات کے پیش نظر ان کا حق ہے کہ وہ یہ مطالبہ کریں اور ہر دیانتدار کا فرض ہے کہ خواہ اس میں اس کا نقصان ہو ا مسلمانوں کے اس مطالبہ کی تائید کرے۔