تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 361 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 361

۳۵۰ کیا وہ یہ مطالبہ نہ کرتے اور ہندوؤں کی ابدی غلامی میں رہنے کے لئے تیار ہو جاتے۔کیا وہ اتنی ٹھوکروں کے باوجود بھی نہ جاگتے۔پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا مسلمان اتنے طویل اور تلخ تجربات کے بعد ہندوؤں پر اعتبار کہ سکتے تھے۔ایک دو باتیں ہوتیں تو نظر انداز کی جا سکتی تھیں۔ایک دو واقعات ہوتے تو پھیلائے جاسکتے تھے۔ایک دو چوٹیں ہوتیں تو اُن کو نظراندازہ کیا جا سکتا تھا۔ایک آدھ صوبہ میں مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچا ہوتا تو اس کو بھی بھلایا جا سکتا تھا۔لیکن متواتر سو سال سے ہر گاؤں میں ہر شہر میں، ہر ضلع میں اور ہر صوبہ میں ، ہر محکمہ میں ، ہر شعبہ میں مسلمانوں کو دُکھ دیا گیا۔اُن کے حقوق کو تلف کیا گیا اور ان کے جذبات کو مجروح کیا گیا اور ان کے ساتھ وہ سلوک روا رکھا گیا یو رخی ظلم کے ساتھ بھی کوئی انصاف پسند آ قا نہیں رکھ سکا کیا اب بھی وہ اپنے اس مطالبہ یں کی جانب تھے کیا اب بھی وہ اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے تگ و دوز کرتے۔کیا اب بھی وہ اپنی عزت کی رکھوالی د کرتے ؟ اور کیا اب بھی وہ ہندوؤں کی بدترین غلامی میں اپنے آپ کو پیش کر سکتے تھے ؟ مسلمانوں کو همیشه با وجود لائق ہونے کے نالائق قرار دیا جاتا رہا۔ان کو با وجود اہل ہونے کے نا اہل کہا جاتا رہا اور اُن کو با وجود قابل ہونے کے ناقابل سمجھا جاتا رہا۔ہزاروں اور لاکھوں دفعہ ان کے جذبات کو مجروح کیا گیا۔لاکھوں مرتبہ ان کے احساسات کو کچلا گیا اور متعدد مرتبہ ان کی امیدوں امنگوں کا خون کیا گیا۔انہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھا اور وہ چُپ رہے۔یہ سب کچھ اُن پر بیتا اور وہ خاموش رہے۔انہوں نے خاموشی کے ساتھ ظلم سہے اور صبر کیا۔کیا اب بھی اُن کے خاموش رہنے کا موقعہ تھا ؟ یہ تھے وہ حالات جن کی وجہ سے وہ اپنا الگ اور بلا شرکت غیرے حق مانگنے کے لئے مجبور نہیں ہوئے بلکہ مجبور کئے گئے۔یہ حق انہوں نے خودنہ مانگا بلکہ ان سے منگوایا گیا۔یہ علیحدگی انہوں نے خود نہ چاہتی بلکہ ان کو الیسا چاہنے کے لئے مجبور کیا گیا اور اس معاملہ میں وہ بالکل معذور تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ با وجود اقلیت رکھنے کے، باوجود اہمیت کے اور با وجود قابلیت کے انہیں نالائق اور نا قابل کہا جا رہا ہے تو انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اس نا انصافی کے انسداد کا سوائے اس کے اور کوئی طریق نہیں کہ وہ ان سے بالکل علیحدہ ہو بھائیں۔اور