تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 360
۳۴۹ ہوں کہ مہندوؤں کو اس وقت اس بات کا کیوں خیال نہ آیا کہ ہم مسلمانوں کے حقوق کو تلف کہ رہے ہیں اور ہر محکمہ میں اور ہر شعبہ میں ان کے ساتھ بے انصافی کر رہے ہیں۔مجھے پچیس سال شور مچاتے اور مہندوؤں کو توجہ دلاتے ہو گئے ہیں کہ تمہارا یہ طریق آخر رنگ لائے بغیر نہ رہے گا لیکن افسوس کہ میری آواز پر کسی نے کان نہ دھرا اور اپنی من مانی کرتے رہے یہاں تک کہ عیب ہمارا احرار سے جھگڑا تھا تو ہندوؤں نے احرار کی پیٹھ ٹھونکی اور حتی الوسع ان کی امداد کرتے رہے۔ان سے کوئی پوچھے کہ جھگڑا تو ہمارے اور احرار کے درمیان مذہبی مسائل کے متعلق تھا۔تمہیں اس معاملہ میں کسی فریق کی طرفداری کی کیا ضرورت تھی۔اور تمہیں ختم نبوت یا وفات مسیح کے مسائل کے ساتھ کیا تعلق مقا کیا تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد نبوت کو بند مانتے تھے کہ ہمارے اجرائے نبوت کے عقیدہ پر تم پر ہم ہوئے تھے ؟ کیا تم حیات میسج کے قائل تھے کہ ہماری طرف سے وفات مسیح کا مسئلہ پیش ہونے پر تم چراغ پا ہو گئے تھے ؟ ہندوؤں کا ان مسائل کے ساتھ دُور کا بھی تعلق نہ تھا۔احرار کی طرف سے ہندو و کلار مفت پیش ہوتے رہے ہیں نے اس بارہ میں پنڈت نہرو کے پاس اپنا آدمی بھیجا کہ آپ لوگوں کی احرار کے ساتھ ہمدردی کس بتار پہ ہے اور یہ طرفداری کیوں کی جارہی ہے۔انہوں نے ہنس کر کہا۔سیاسیات میں ایسا کرنا ہی پڑتا ہے۔اب جن لوگوں کی ذہنیت اس قسم کی ہو ان سے بھلا کیا امید کی جاسکتی ہے۔یہ جو کچھ آج کل ہو رہا ہے یہ سب گاندھی جی ، پنڈت نہرو اور مسٹر پٹیل کے ہاتھوں سے رکھی ہوئی بنیادوں پر ہو رہا ہے۔اس کے ساتھ ہی انگریزوں کا بھی اس میں ہاتھ تھا۔ان کو بھی بار بار اس امر کے متعلق تو جہ دلائی گئی کہ ہندوستان کے کروڑوں کروڑ مسلمانوں کے حقوق کو تلف کیا جا رہا ہے جو ٹھیک نہیں ہے لیکن انہوں نے بھی اس طرف توجہ نہیں کی۔یہ سب کچھ ہوتا رہا اور باد بود یہ جاننے کے ہوتارہا کہ مسلمانوں کے حقوق تلف ہو رہے ہیں اور باوجود اس علم کے کہ مسلمانو سے نا انصافی ہو رہی ہے مسلمان ایک مدت تک ان باتوں کو برداشت کرتے رہے۔مگر جب یہ پانی سر سے گزرنے لگا تو وہ اُٹھے اور انہوں نے اپنے لیے اور تلخ تجربہ کے بعد جب یہ سمجھ لیا کہ ہندوؤں کے ساتھ رہتے ہوئے اُن کے حقوق خطرے میں ہیں تو انہوں نے اپنے حقوق کی حفاظت اور آرام اور چین کے ساتھ زندگی میسر کرنے کے لئے الگ علاقہ کا مطالبہ پیش کر دیا