تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 19 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 19

19 کا با کمیٹی کا تقرر حضرت خلیفہ اسی انانی نے ای وی اریک کا ادب پہلا قدم یہ اٹھایا کہ تمام کے نا کالج کے منصوبہ کو جلد سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے اور اس کو جاری کرنے کے انتظامات کی انجام دہی کے لئے ایک کمیٹی مقرر فرمائی اور حسب ذیل اصحاب کو اس کا نمبر تجویز فرمایا :- -1 قمرالانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے (صدر) -۲ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایم اے (آکسن) حضرت مولوی محمد دین صاحب بی۔اے ہے۔قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے (سیکرٹری نے حکومت پنجاب سے منظوری کا ہی کمیٹی کی تشکیل کے مابعد قیام کالی کے لئے حکومت سے امانی حکومت پنجاب سے منظوری لینے کا محلہ شروع ہوا۔اس سلسلہ میں ملک غلام فرید صاحب ایم اے سیکرٹری کا پر کمیٹی کو ارشاد ہوا کہ وہ لاہور جھا کہ کوشش کریں کہ اگر ممکن ہو تو یونیورسٹی کے سائر ( امین) کے تعلیمی سال ( SESSION ) شروع ہوتے ہی احمدیہ کالج کے اجراء کی اجازت مل جائے لیکن وقت بہت تنگ تھا اور حکومت سے منظوری بہت سے مراحل طے کرنے کے بعد ہی حاصل ہو سکتی تھی اس لئے اس سال تو کالج کا قیام عمل میں نہ آسکا تاہم اگلے سال ۲۲ صلح / جنوری لاش کو پنجاب یونیورسٹی کا ایک یہ کمیٹی نہایت مفید اور قابل قدرہ انتظامی خدمات انجام دینے کے بعد ۲۷ افادر اکتوبر یہ سلسلہ میں کو مجلس تعلیم ا میں مدغم کر دی گئی جس کے صدر بھی قمرالا یا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ہی تھے۔نیز فیصلہ ہوا کہ : رٹی آئندہ کا لی کمیٹی کے ایسے ممبران ہو اس وقت تک مجلس تعلیم کے میر نہیں مجلس تعلیم کے ممبر ہوں گے۔(ب) کالج کے عملی کام کے لئے ایک سب کمیٹی مشتمل بر حضرت میاں بشیر احمد صاحب ، صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور ملک غلام فرید صاحب ایم اے اور مولوی ابوالعطاء صاحب ہوگئی تین کے سیکرٹری ملک غلام فرید صاحب اور اسسٹنٹ سیکرٹری مولوی ابو العطاء صاحب ہوں گے۔(ج) یہ سب کمیٹی کا لج کے حمد تفصیلی کام سر انجام دے گی۔البتہ بحث اور صولی قواعد اور استثنائی فیصلہ جات اور مزید کلاسز کا اجراء مجلس تعلیم میں پیش ہوں گے تبلیغ فروری ہش کو اس نئی کمیٹی کے عمران میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا اضافہ کیا گیا مگر ارایش میں یہ نظام عمل بھی بدل دیا گیا اور ۲۸ رامان / مارو میش کو فیصلہ ہوا کہ آئندہ تعلیم الاسلام کالج کے متعلق مجلس تعلیم کا کام صرف اس مستک محدود ہو گا جو دینیات کا نصاب مقرر کرنے اور دینیات کا امتحان لینے سے تعلق رکھتا ہے نظم و نسق کا سارا کام صدر امین احمدیہ کی طرف منتقل کر دیا جائے ؟ میں بیاہ مجلس تعلیم کا وجود عملا قائم نہرا دینیات کے امتحان والا حصہ خود بخود نظارت تعلیم سے متعلق ہو گیا ؟ 1907