تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 326 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 326

۳۱۵ عبوری حکومت کا قیام اب جب کہ چودھری سردارمحمدخاں نے اپنی کتاب حیات قائد اعظم میں بالصراحت لکھا ہے، بساط سیاست کا نقشہ بالکل دگرگوں تھا۔لیگ کے فیصلہ نے کانگریس کے لئے راستہ صاف کر دیا تھا اور عبوری حکومت کی تشکیل میں وہ شرکت کی مستحق نہ رہی تھی۔ان حالات میں جہانتک آئینی نقطہ نظر کا تعلق تھا کانگرکہیں ہی ایک ایسی پارٹی تھی جو مزار تی میشن کی پیش کردہ شرائط کے قریب پہنچ کر عارضی حکومت کی تشکیل کی دعویدار بن سکتی تھی۔وائسرائے ہند نے جو اسی موقعہ کی تاک میں تھے کانگرس سے گٹھ جوڑ کر کے بالاخر صدر آل انڈیا کانگریس درپنڈت جواہر لال نہروں کو عبوری حکومت کی تشکیل کی دعوت دے دی جو پنڈت جی نے فوراً قبول کرلی اور اعلان پر اعلان کرنا شروع کر دیا کہ جو ہمارے ساتھ شرکت نہ کرنا چاہے اُسے ہم مجبور نہیں کر سکتے۔اس کا انتظار نہیں کر سکتے۔ہم اپنا کام جاری رکھیں گے ہم برابر بڑھتے رہیں گے۔ہم دستور سازی کا کام شروع کریں گے۔ہم عبوری حکومت کو کامیابی سے تنہا چلالیں گے۔اور پھر انہوں نے ۲ ستمبر 2014 کو عبوری حکومت کا چارج بھی لے لیا۔عبوری حکومت کی تشکیل سے کانگرس کی دلی آرزو بر آئی تھی مگر مسلمانوں کے لئے اس کا وجود مسلمانوں کے قومی سم میں خنجر بھونکنے کے مترادف تھا۔ان کے ساتھ بد عہدی کی گئی، قریب کیا گیا۔اور انہیں بیکر نظر انداز کر کے ہندو اکثریت کو اقتدار کی باگ ڈور سپرد کر دی گئی تھی۔بچنا نچہ قائد اعظم نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ " آج کانگریس خوش ہے کہ اس کی دلی مراد پوری ہو گئی اور مسلم لیگ کو نظر انداز کرانے میں کامینا ہو گئی۔اگر برطانوی حکومت کانگریس کی نخوت و خود نمائی کو محرک کر کے خوش ہے اور اس سے سودا بازی کی متمنی ہے تو ہم بھی۔۔۔۔مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں" سے مسلمانان ہند نے مسلم لیگ کے فیصلہ کے مطابق پورے ملک میں مسلمانان ہند کا ملک گیر احتجاج حکومت کی بدعہدی کے خلاف دو بار نظم احتجاج کیا۔اورگت کو یوم راست اقدام منایا اور یکم ستمبر کو ریعنی عبوری حکومت کے قیام سے ایک روز قبل) ” یوم سیاہ منایا اور ساتھ ہی وقعتا پہلے کلکتہ میں اور پھر بھیٹی میں ہولناک فسادات پھوٹ پڑے۔" الے حیات قائد اعظم ، صفحہ ۶۴۸ - ۲۴۹ ( از پو د هری سردار محمد خانصاحب ہی۔اسے ناشر باشد زیو نائیٹڈ انار کلی لاہور