تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 300 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 300

10 محمودی پالیسی کو سراہا۔اس کے بعد جب سنٹرل سمبلی کے ایکشن شروع ہوئے انگریز شہنشاہیت کے فیری اصول پھوٹ ڈالو اور حکومت کے دو پر عمل کرئیے وتا مرزائیوں نے مسلم لیگ کو ووٹ دیتے۔یہاں تک کہ جب مولانا ظفر علی خاں قاصر ہوگا۔مہند و اسلئے مخالف ہیں۔کہ وہ مسلمانوں کو دائمی طور پر غلو ہے محکوم یڈیٹر و دیندار لاہور۔جو کسی زمانے میں مرزائیوں کے شدید ترین دشمن تھے اُن کا بنانے کے مرغوب نصب العین کے حصول سے ناکام رہیگا۔گو یا تمام پاکستان مند گابا کامقابل ہوا تو فر ضائع سلم لیگ گورو اسپور سے مرزا محمود قادیانی میں انگریزی حکومت اور شہد اپنی اپنی تمنا کا خون دیکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دفتر کو ایک چھٹی لکھی جس کی نقل مطابق اصل درج کی جاتی ہے۔جس میں مرزائیوں جواہر لال نہرو نے کھلا چیلنج دیکھا ہے کہ سلم لیگ کو کچل کر رکھ دیں گے۔اس کو صاف طور پر مسلمان قوم تسلیم کیا گیا ، وهو هذا ا:- خطرناک اعلان جنگ میں حرابہ ، خاکسار، یونینسٹ اور نام نہاد مسلمانوں ہندووں دفتر ضلع مسلم لیگ گورداسپور کی ظاہرہ امداد کا عزم کر لیا ہے۔یہ سب جماعتیں پاکستان اور ترکی اسلام کی راہ میں کانٹے ہیں۔مسلمانوں کو ان سب کو امن کا گر آگے بڑھنا ہے۔موجودہ انتخابات توں کلم لیگ نمائیندے اگر کامیاب ہو گئے تو قیام پاکستان اور ازادی اسلام کو السياسيا بخدمت جناب حضرت مرز البشير الله من محمود احمد صاحب محتوی و مکرمی است سلام و علیکم مسلم لیگ اور مسلمانان ہند کامطالبہ ہی ہے کہ ہندوستان کو دو حصوں میں بات نہ انگریز اور نہ ہندو روک سکتے اور اگر ہم اپنی غفلت سے خدا نخواستہ ناکام ودیاک جہاں سلمان زیادہ ہیں وہ خود مختار حکومت پاکستان قائم کریں وہ اپنے علاقہ رہے۔تو ہماری سیاسی موت لازمی ہے، گو یا موجودہ انتخابات مسلمانوں کی میں آزاد ہوجائیں یہ تجویز انگریز رو رند کو نیند نہیں دی تجویز ز ر محمود و می بیند آکنده باد گار زندگی یا ذلیل موت کا سوال ہے۔ہر سلمان کو ذاتی منفعت اور نہیں کافی وینکس انتقال ۲۱ بر اکتوبر ۱۹۹۵ از مضمون مرز امحمود برادری کی کش مکش سے بند ہو گر ملت کی بہتری کے لئے سب کچھ قربان کر نا گا۔گو ہم پہلے بھی ایسے اکھنڈ ہندوستان کے قائل تھے جن میں مسلمان پاکستان دینا چاہئیے۔مرکزی ہمیں دہلی کے لئے حضرت مولانا ظفر علی خالی مالک انتبال و کا ہندوستان برده ها پر محبت شامل ہوں۔اور اسب بھی ہمارا عقید زمیندار لاہور پرانے خادم السلام یہ علم لیگ کے امیدوار ہوگیا۔ا در سند کاندر ہی ہے بلکہ ہمارا تو یہ عقیدہ یہ ہے کہ ساری تو نیا کی حکومت ایکس ہو۔آپ ووٹر ہیں آپ کی روٹ قوم کی امانت ہے مگر چونکہ مسلم لیگ اس کو مسلمان کا سیر تفکیٹ دینے والی تھی۔اس لئے تی یہ مہفتہ ا پراگی کی صورت میں ہی وہ مسلم لیگ کودنے کو چونکہ اس سورتیں ہندو قوم آپ سے دور کی بھیگ مانگتی ہے۔دروازہ بہ تاریخ کا ہوں امقام انار کو ٹکٹ اور ڈیٹا لہ ووٹ پڑیں گے۔سائے کی اور نہر میں کہا مجھے اور