تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 299
۲۹۰ کا مسٹر گاہا کا مقابلہ ہوا تو دفتر ضلع لیگ گورداسپور نے مرزا محمود احمد قادیانی کو ایک چھٹی لکھی جس کی نقل مطابق اصل درج کی بھاتی ہے جس میں مرزائیوں کو صاف طور پر مسلمان قوم تسلیم کیا گیا۔وھوھذا دفتر ضلع مسلم لیگ گورداسپور بخدمت جناب حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب محترمی و حکومی ! السلام علیکم مسلم لیگ اور مسلمانان ہند کا مطالبہ یہ ہے کہ ہندوستان کو دو حصوں میں بانٹ دیا جائے جہاں مسلمان زیادہ ہیں وہ خود مختار حکومت پاکستان قائم کریں اور اپنے علاقہ میں آزاد ہو جائیں یہ تجویز انگریز اور ہندو کو پسند نہیں ) ہے۔مگر چونکہ اس صورت میں ہندو اور۔مسلمان اپنی جگہ مضبوط ہو جائیں گے ان میں باہمی تنازعہ نہ ہونے کے باعث انگلی شہنات کے مذہبی اصول پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو" پر عمل کرنے سے قاصر ہوگا۔ہندو اس لئے مخالفت ہیں کہ وہ مسلمانوں کو دائمی طور پر مغلوب اور محکوم بنانے کے مرغوب نصب العین کے حصول سے ناکام رہے گا۔گویا قیام پاکستان میں انگریزی حکومت اور ہند و اپنی پنی تمنا کا خون دیکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جواہر لال نہرو نے کھلا چیلنج دے دیا ہے کہ مسلم لیگ کو کچل کر رکھ دیں گے۔اس خطرناک اعلان جنگ میں اتوار بناکار یونینسٹ اور نام نہاد مسلمانوں نے ہندوؤں کی ظاہرہ امداد کا عزم کر لیا ہے۔یہ سب جماعتیں پاکستان اور ترقی اسلام کی راہ میں کانٹے ہیں۔مسلمانوں کو ان سب سے دامن بچا کہ آگے بڑھنا ہے۔موجودہ انتخابات میں مسلم لیگی نمائندے اگر کامیاب ہو گئے تو قیام پاکستان اور آزادی اسلام کو نہ انگریز اور نہ ہند و روک سکیں گے۔اور اگر ہم اپنی غفلت سے بعد انخواستہ ناکام رہے تو ہماری سیاسی موت وازمی ہے گویا موجودہ انتخابات ے یہاں بریکیٹ کے اندر مندرجہ ذیل عبارت لکھی ہے۔یہ تجویز مرز محمود کو بھی پسند نہیں تھی۔دیکھو " الفضل ۱۲ اکتوبر های دو مصرون مرزا محمود گو ہم پہلے بھی لیے اکھنڈ ہندوستان کے قائل تھے جن میں مسلمان کا پاکستان اور مہندو کا ہندوستان برمنا، و رغبت شامل ہوں اور اب بھی ہمارا عقیدہ یہی ہے بلکہ ہمارا تو یہ عقیدہ ہے کہ ساری دنیا کی حکومت ایک ہو۔مگر چونکہ مسلم لیگ اس کو مسلمان کا سرٹیفکیٹ دینے والی تھی۔اس لئے ناپسندیدگی کی صورت میں بھی ووٹ مسلم لیگ کو دیئے " صفحہ ۲۴ +