تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 295 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 295

۲۸۶ واقعہ اس صوبہ میں کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیئے اور سب لوگوں کو مرکزی مسلم لیگ کی شاخ کے نمائندوں کو ووٹ دینے چاہئیں اور انہی کی مدد کرنی چاہیئے۔ان کے مخلاف جو لوگ آزاد مسلم لیگی ٹکٹ پر کھڑے ہوئے ہیں وہ ذاتی رنجشوں کی بہار پر کھڑے ہوئے ہیں۔کوئی سیاسی قومی سوال ان کے سامنے نہیں اس وقت ان ذاتی رنجشوں کو بھول جانا چاہیے۔۔پس صوبہ سرحد بو گو یا ہندوستان کی چھاؤنی ہے اس میں مسلمانوں میں اختلات کو ئیں بالکل نامناسب سمجھتا ہوں۔اور پر احمدی سے امید کرتا ہوں کہ جہاں بھی ہو صوبہ سرحد کی مرکزی لیگ کی شاخ کے مقرر کردہ امیدوار کی حمایت کرے۔اس کے حق میں ووٹ دے اور اپنے زیرہ اثر لوگوں سے اسے ووٹ دلوائے اور اس کے حق میں اپنے علاقہ میں پورے زور سے کارروائی کرنے سے مرکزی انتخابات میں جماعت احمدیہ کا عدیم النظیر سرکاری پروگرام کے مطابق نوبر کے عت آخر میں مرکزی اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔محجبات اور روح پر ور ملی مظاہرہ اور مسلم لیگ کی شاندار فتح محمدیہ نے این انتخابات میں با استانی مسلم لیگی امیدواروں کی حمایت کی حتی کہ سلسلہ احمدیہ کے بزرگ (جن میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ، حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ، حضرت عمان اب مربوی فرزند علی خاں صاحب اور دوسری مرکزی شخصیتیں بھی شامل تھیں ) ۲۴ نومبر کو بٹالہ پولنگ اسٹیشن پر تشریف لے گئے جہاں اگرچہ مسلم لیگیوں نے اپنے کیمپ کی دریوں پر سے احمدیوں کو اٹھا دیا۔مگر احمدی بزرگوں نے بنوادی ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر زمیندالہ جیسے معاند احمدیت کو محض اس لئے ووٹ دیا کہ وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کھڑے ہوئے تھے۔مرکزی اسمبلی میں جماعت احمدیہ کے اس بے نظیر تعاون کا کسی قدر اندازه مجلس اگر از اسلام قادیان کے ایک کتابچہ مسلم لیگ اور مرزائیوں کی آنکھ مچولی پر مختصر تبصرہ سے بآسانی لگ سکتا ہے۔یہ کتابچہ اکتوبر 19 میں شائع کیا گیا۔اور اس میں مسلم لیگ اور جماعت احمدیہ کے قدیمی روابط و مراسم کا ذکر کرتے ہوئے لکھاتا ہے : ا " الفضل يكم تبلیغ و فروری مش صفحها " الفصل " ۲۳ نیوت / نومبر ۹۳۵ مدل به گے حضرت مصلح موعود کے ایک مکتوبیب بینام پیرا کبر علی صاحب مرقومه ۲۵ نبوت انو مبر سال اسلام میں سے ماخوذ۔