تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 294
بناتی رہی ہے۔مسلم لیگ کے متعلق ہماری یہ رائے ہے کہ غیر مسلم جماعتیں مسلمانوں کو اس وقت تک ان کے حقوق نہیں دیں گی جب تک کہ پاکستان کے مطالبہ پر زور نہ دیا جائے۔اور مسلمان اپنے حقوق کا آزادانہ طور پر فیصلہ کرنے کے قابل نہ ہو سکیں مسلمانوں کا سو سالہ تلخ تجربہ اس بات پر شاہد ہے کہ گو ملک کا ایسا تجزیہ ایک نہایت ہی افسوسناک امر ہے لیکن اس کے سوا چارہ ہی نہیں کیونکہ غالب قوموں نے مسلمانوں کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ ایسا مطالبہ پیش کرین۔اصل میں کانگریس اور مسلم لیگ کے دعووں میں صرف یہ فرق ہے کہ کانگرس کہتی ہے کہ مسلمان پہلے اس حکومت میں شامل ہو جائیں جس میں ہندو اکثریت ہو پھر اپنا مطالبہ پیش کریں۔اور مسلم لیگ کہتی ہے کہ پہلے نہیں آزادی دور پھر برابر بیٹھ کر کھوتہ کرہ اور شنا ظا ہر ہے کہ اکثریت میں شامل ہو کہ الگ ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں رہتی اور الگ ہو کر شامل ہونا عقل کے مین مطابق ہے " ہے بنگال یوپی بہار اسی پی اور بمبئی کے موضوع پاؤ فی ضلع بجنور کے ایک احمدی دوست نے حضرت سیدنا احمدیوں کو لیگ کی مددکرنے کا فرمان المصلح الموعود کی خدمت میں بذریعہ مکتوب استفسار کیا کہ یہاں پر کانگریس کا بہت زور ہے، اکثر حصہ مسلمانوں کا کانگریس کو ووٹ دے گا کیونکہ کمینہ علماء کی طرف سے کانگریس کے واسطے بہت کوشش ہے۔لہذا ارشاد عالی سے مطلع فرمایا جائے کہ اس وقت ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیئے ؟ حضرت امیر المومنین نے اپنے دست مبارک سے رقم فرمایا کہ لیگ کی ہر طرح امداد کریں۔اپنے ووٹ بھی دیں اور جن جن پر اثر پڑ سکتا ہو ان سے بھی دلوائیں۔بنگال، یوپی ، بہار ، سی پی اور بمبئی وغیرہ میں دوٹ مسلم لیگ کو دیئے جائیں " سے صوبہ سرحد میں کانگریسی وزارت مسلط تھی اور خدشہ تھا کہ مسلم اکثریت حضرت امام جماعت احمدیہ کی باید صوبہ جو گویا ہندوستان کی چھاؤنی قرار دیئے جانے کا مستحق ہے ، کرایہ صوبہ سر کے احمدیوں کی خصوصی ہدایت مسلم لیگ کے اتھ سے نہیں نکل نہ جائے حضت امر الومنین نے اس تشویشناک صورت حال کا جائزہ لے کر صوبہ سرحد کے احمدیوں کے نام مندرجہ ذیل ہدائیت بھاری فرمائی:۔صوبہ سردار کے احمدیوں کو ئیں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ مسلمانوں کے فوائد کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سلم " النش" ۱۵ نبوت / نومبر به بیش صفحه 1 ۱۱۹۴۵ + له الفضل " ۲۷ تبلیغ فروری ۱۳۲۵ میش سفره ۱۲ 1974