تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 279
۲۷۳ بھی مشکل نہ ہوگا۔ورنہ پاکستان یا اکھنڈ ہندوستان ہوں یا نہ ہوں ، پاکھنڈ ہندوستان بننے میں تو کوئی شبہ ہی نہیں۔اس ہندو مسلمان سمجھوتے کی ممکن صورت یہی ہو سکتی تھی کہ ایک جماعت مسلمانوں کی اکثریت کی نمائندہ ہو اور ایک جماعت ہندوؤں کی اکثریت کی نمائندہ ہو یا ہندوؤں کی اکثریت کی نمائندہ تو نہ ہو یا ایسا کہلانا پسند نہ کرتی ہو مگر اکثر ہندوؤں کی طرف سے سمجھوتہ کرنے کی قابلیت رکھتی ہو اور یہ دونوں جماعتیں مل کر آپس میں فیصلہ کر لیں۔شملہ میں ایسا موقعہ پیدا ہو گیا تھا۔مسلمانوں کی طرف سے مسلم لیگ اور ہندوؤں کے جذبات کی نمائندگی کے لئے کانگریس ، یہ دونوں پاڑیاں ایک مجلس میں جمع ہو گئی تھیں۔کانگریس کا دعوی ہے کہ وہ سب اقوام کے حقوق کی محافظ ہے اور ہم اس دعوئی کو رد کرنیکی کوئی ضرورت نہیں منسویں کرتے مگر باوجود اس کے کانگرس اس امر کا انکار نہیں کر سکتی کہ جو مسلمان یا سکھ یا عیسائی کانگرس میں شامل ہیں، وہ مسلمانوں یا سکھوں یا عیسائیوں کی اکثریت کے نمائندے نہیں ہیں۔پس کانگرس اگر یہ دعونی کرے کہ ہم جو کچھ سوچتے ہیں سارے ملک کی بہتری کے لئے سوچتے ہیں یا ہم جو سکیم بناتے ہیں اس میں اسی طرح سکھوں عیسائیوں اور مسلمانوں کا خیال رکھتے ہیں جس طرح ہندوؤں کا خیال رکھتے ہیں تو ہم اس دعوی کو بحث ختم کرنے کے لئے سچا تسلیم کر لینے کے لئے تیار ہیں۔لیکن کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کے مفاد کو دیانتداری سے ادا کر دینا یا ایسا کرنے کا دعویدار ہونا اسے اس کی نیابت کا حق نہیں دے دیتا۔کیا کوئی وکیل کسی عدالت میں اس دعوئی کے ساتھ پیش ہو سکتا ہے کہ مدعی یا ماعلی علیہ کے مقرر کردہ وکیل سے زیادہ سمجھ اور دیانت داری سے میں اس کے حقوق پیش کر سکوں گا۔کیا کوئی عدالت اس وکیل کے ایسے دعوی کو با وجود ستیا سمجھنے کے قبول کر سکے گی اور کیا اس قسم کی اجازت کی موجودگی مین ڈیمو کریسی ڈیمو کریسی کہلا سکتی ہے ؟ ڈیمو کریسی یا جمہوریت کے اصول کے لحاظ سے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کسی جماعت کی نمائندگی کرنے کا کون اہل ہے۔بلکہ یہ دیکھا بھاتا ہے کہ اس جماعت کی اکثریت کس کو اپنا نمائندہ قرار دیتی ہے۔