تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 278
۲۷۲ شروع ہونے والے ہیں میری اور جماعت احمدیہ کی پالیسی شروع سے یہ رہی ہے کہ مساہنوں ہندہ ہوں اور سکھوں اور دوسری اقوام میں کوئی باعزت سمجھوتہ ہو جائے اور ملکہ میں محبت اور پیار اور تعاون کی روت کام کرنے لگے۔مگر افسوس کہ اس وقت تک ہم اس غرض میں کامیاب نہیں ہو سکے۔شملہ کا نفرنس ایک نادر موقعہ تھا مگر اسے بھی کھو دیا گیا اور بعض لوگوں نے ذاتی رنجشوں اور اغراض کو مقدم کرتے ہوئے ایسے سوال پیدا کر دیئے کہ ملک کی آزادی کئی سال پیچھے جاپڑی اور چالیس کروڑ ہندوستانی آزادی کے دروازہ پر پہنچ کر پھر غلامی کے گڑھے کی طرف جکیل دیئے گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔جہانتک میں نے خیال کیا ہے اصل سوال ہندوؤں اور مسلمانوں کے اختلافات کا ہے میرا مطلب یہ نہیں کہ دوسری اقوام کے مفاد نظر انداز کئے جا سکتے ہیں۔بلکہ میرا یہ مطلب ہے کہ دوسری اقوام کے مفاد اس جھگڑنے کے طے ہو جانے پر نسبتا سہولت سے ملے ہو سکتے ہیں۔سب سے مشکل سوال ہند مسلم سمجھوتے کا ہی ہے اور یہ سوال پاکستان اور اکھنڈ ہندوستان کے مسائل سے بہت پہلے کا ہے۔اصل مسائل وہی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کا ذہن پاکستان کی طرف پھیرا ہے اور اکھنڈ ہندوستان کے خیالات کے محرک بھی وہی مسائل ہیں جو اس سے پہلے مسلمانوں کے مطالبات کو رڈ کرانے کا موجب رہے ہیں۔کسی شاعر نے جو کچھ اس شعر میں کہا ہے کہ بہر رنگے کہ خواہی حجامہ مے پوسشس من انداز قدت را می شناسم وہی حال اس وقت پاکستان اور اکھنڈ مہندوستان کے دھووں کا ہے۔پس اگر کسی طرت ہندو اور مسلمان قریب لائے بھاسکیں تو پاکستان اور اکھنڈ مہندوستان کا آپس میں قریب لانا ابقیه حاشیه هم صفحہ گذشتہ کی حمایت کا یقین دلایا ہے بشرطیکہ وہ پاکستان میں احمدیوں کے کعبہ کو ایک خود مخت صورت سلیم کرلیں۔اور اس صوبہ کی اسلامی پنجاب میں وہی حیثیت ہو جو اٹلی میں پوپ کے دار الحافر ویگین کی ہے۔انہوں نے ت دیان میں مطبوعہ مجوزہ قادیان سٹیسٹ کا ایک نقشہ بھی مسٹر جناح کے سامنے پیش کیا جس میں دریائے بیاس سے لے کر پوری بٹالہ تحصیل اور گورا پور تحصیل کا بڑا حصہ دکھایا گیا۔مسٹر جناح سے کہا گیا کہ قادیان سٹیسٹ کا سرکاری مذہب احمدی ہوگی اور خلیفہ قادیان اس کے مذہبی پیشوا اور بھی شیت عہدہ گورنہ ہوں گے"