تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 261
۲۵۵ میں سمجھتا ہوں کہ گذشتہ دنوں مسٹر ایمری نے ہندوستان کے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا وہ بھی پیرامید ہیں۔ان سب چیزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سمجھوتہ کا کافی امکان ہے برطانیہ اس کا خیر مقدم کریگا۔روس اور امریکہ کا ایں سے کوئی تعلق نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ وہ اسے بیحد پسند کریں گے مسٹر آر تھر گرین وڈلیڈر آف نیل پورشن نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ لارڈ ویول کا دورہ ضرور کامیاب رہے گا۔پارلیمنٹ میں بھی اور پارلیمنٹ کے باہر بھی گذشتہ ہفتوں سے ایسے آثار نمایاں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستانی مسئلہ کے متعلق فضاء سازگار ہو رہی ہے۔برطانیہ میں بیشمار لوگ اس کے حل کا بیتابی سے انتظار کر رہے ہیں۔لارڈ ویول نہ صرف مشرق بعید کی جنگ کے سلسلے میں صلاح ومشورہ کریں گے بلکہ ہندوستان کا سیاسی مسئلہ بھی زیر غور آئے گا۔پر و فیسر جارج کاٹن نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ موجودہ بات چیت سے تعقل ختم ہو کر کوئی تعمیری پروگرام سامنے آئے گا۔لا انگلستان میں آزادی ہند سے متعلق سرگرمیوں کی محمد ری محمد ظفر الد خان صاحب اپنی خود نوشت سوانح میں کامن ویلتھ ریلیشنز کا نفرنس کی تقریب تفصیل چودھری محمد ظفراللہ خاصاحب کے قلم سے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔پر اپنی تقاریر اور ان کے رد عمل پر روشنی ڈالتے ۱۹۴۵ کی فروری میں CHATCHAN - HOUSE لندن میں Royal INSTITUTE OF INTERNATIONAL AFFAIRS کی سر پرستی ہیں COMMON - WEALTH کے نمائندگان کی ایک کا نفرنس کا اہتمام کیا گیا۔بہندوستان کی INSTITUTE کی طرف سے بھی ایک وفد نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔وفد کے اراکین میں جناب کنتور سر مہا راج سنگھ ، جناب میر مقبول محمود ، جناب C۔L MEHTA جناب خواجه سرور حسن اور خاکسار شامل تھے۔افتتاحی اجلاس میں ہر وفد کے قائد سے پانچ پانچ منٹ کی تقریر میں اختصاراً اپنے اپنے ملک کی جنگی سرگرمیوں کا خلاصہ بیان کرنے کی استدعا کی گئی۔ہندوستان کی باری آنے پر میں نے تین منٹ تو ہندوستان کی جنگی سرگرمیوں کا خلاصہ بیان کرنے میں صرف کئے اور بتایا کہ پچھپیں لاکھ ہندوستانی کسی نہ کسی حیثیت میں بینگ کے مختلف محاذوں پر برطانوی اور استحادی آزادی اور سالمیت کی حفاظت اور دفاع میں مختلف الفضل ۲۲ بار به شه وانه صفحه و کالم سم