تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 259 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 259

۲۵۳ چودھری صاحب کا ہندوستان سٹینڈرڈ چودھری صاحب نے ۱۲ فروری سہ کو مہندوستان سٹینڈرڈ کے نمائندہ سے ایک انٹرویو میں کہا کہ میری سرکونی کے نمائندہ سے انٹرویو میں جو وفد یہاں آیا ہے وہ دو سوالات کا قطعی فیصلہ کرانے کے بعد سہندوستان واپس جائے گا۔پہلا سوال یہ ہے کہ ہم جنوبی افریقہ کے ڈیلیگیشن کا اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑیں گے جب تک وہ ہندوستانیوں کو شہریت کے مساوی حقوق دینے کے لئے تیار نہ ہو گا۔اگر اس نے ہارا یہ مطالبہ منظور نہ کیا تو اسے سہندوستان کی طرف سے پوری پوری انتقامی کارروائی کے لئے تیار ہو جانا چاہیئے دوسرا سوال ہندوستان کی آزادی ہے خواہ ہندوستان بر طانی کامن ویلتھ کے اندر رہنا منظور کرے یا باہر ہوتا ہے آزادی ہند سے متعلق چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی تجویری نے برطانوی مدبرین کے خیالات میں زلزلہ برطانوی مدترین کے خیالات میں ایک زبر دست زلزلہ مجد پا کر دیا۔لنڈن کے با اثر اور مشہور روزنامہ لنڈن ٹائمز (LONDON TIMES) کے کالموں میں متعد د انگریزوں کے اس تجویز کی نسبت مراسلات شائع ہوئے اور لنڈن ٹائمز ۲۰ مارچ ۹۷۵نہ) نے اپنے اداریہ میں ان خطوط کا خلاصہ شائع کر کے ان کی بناء پر ڈونکتے پیش کئے۔ایک یہ کہ برطانیہ کو خود اس کارروائی کے اختیار کرنے کا ذمہ دار ہونا چاہیئے جو ہندوستان کے متعلق اس کی اعلان کی ہوئی پالیسی کو موثر طور پر نافذ کرنے کا یقین حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔دوسرا یہ کہ موجودہ حالت میں محض کریس مشن کی پیشکش پر یہ کہ کہ انحصار کرتا کہ اسے قبول کر لایا تو کر دو اب کافی نہیں رہا۔نیز لکھا :- اولر ر حقیقت میں جنگ کے دوران اور جنگ کے بعد بھی ہندوستانی برطانوی تعاون کے لئے خطرناک ہے لنڈن ٹائمز کی اسی اشاعت میں چودھری ظفر اللہ تعال صاحب کا ایک مضمون بھی چھپا جس پر اختیار نے اپنے لینڈنگ آرٹیکل میں یہ تبصرہ کیا کہ } آنریبل سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کی وہ سکیم جو انہوں نے اپنے اس آرٹیکل میں بیان کی ہے جو دوسری جگہ اسی صفحہ پر درج ہے گو مسلم نقطہ نگاہ سے لکھی گئی ہے لیکن بلا شبیہ مر ترانہ نقطہ نگاہ کی مظہر ہے اور سر موصوف کے وسیع تجربہ پہ (جو انہیں اپنے ملک کی خدمت کے سلسلہ میں انتظامی الفصل ۳۴ تبلیغ فروری ۳۳۳ ریش صفحه ۸ کالم ۲ : 4 ۲۲ امان ماریچ صفحه