تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 224
MIA 4 - حضرت شیخ محمد المعیل صاحب مرساوی دو (ولادت با کار بودندانهای بیعت : ۱۸۹۴ وفات : ۲۵ احسان جون را پیش بر بالا مدرس تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ابتدائی اور قدیم اساتذہ میں سے تھے۔چنانچہ حضرت مفتی محمد صادق صاب نے رسالہ تعلیم الاسلام " دسمبر شائر میں ان کی نسبت لکھا ” اس وقت جتنے اُستاد مدرسہ میں کام کر رہے ہیں ان میں سے سب سے پرانے شیخ محمد المعیل صاحب انفنٹ ٹیچر ہیں جو کہ ابتدائی طلباء کو قرآن شریف جلد اور عمدہ پڑھانے میں ایک خاص لیاقت رکھتے ہیں اور تھوڑے عرصہ میں یعنی پہلی جماعت میں سارا قرآن شریف ایک دفعہ پڑھا دیتے ہیں۔حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی سال سے رولادت: ۶۱۸۵۴ بیعت جنوری شهد الله وفات : ۲۸ احسان جون ۱۳۲۲ شهید احمدیت مولانا عبید اللہ صاحب مبلغ ماریشس کے والد ماجد تھے۔بعیت اولی اشتہار سے قبل قادریان تشریف لے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت سے مستفیض ہوئے معلیہ عظیم مذاہب لاہور میں شرکت کے معا بعد اپنے بھائی حافظ غلام محمد صاحب اور استاد مولوی نجم الدین صاحب کے ساتھ قادیان پہنچے۔اور تینوں نے بیک وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کا شرف حاصل کیا بیویت کرتے وقت ان تینوں پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ بیساختہ رونا شروع کر دیا۔اور اللہ تعالے کی عظمت دل حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن دنوں کرم دین کے مقدمہ کے لئے گورداسپور میں تشریف فرما تھے۔تو حضور علیہ السلام کے ارشاد پر ایک بار خطبہ جمعہ پڑھا۔حضرت حافظ صاحب اپنی روایات میں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- چودھری حاکم علی صاحب پنیاری۔۔۔۔نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور آج جمعہ ہے اور مولوی عبد الکریم صاحب آئے نہیں تو جمعہ کون پڑھائے گا حضور نے فرمایا۔یہ حافظ صاحب جو ہیں یہ پڑھائیں گے۔یہ لفظ سُن کر میرا بدن کانپ اُٹھا اور میں نے دل ہی دل میں کہا له " الفضل" ۲۷ احسان ایون میں صفحہ ا کالم سے افضل ۲۹ احسان جون مایش صفحه اکو ام " ۳۳۳ ۱۲ صلح جنوری ۲۲ مه بهش صفحه ۳ به ۱۱۹۴۴