تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 211
۲۰۵ کرنے کے لئے تیار ہیں۔پر دانے موجود ہیں ، شمع ہی انہیں قربان ہو جانے سے روک رہی ہے اور وہ مبل بجانے کی خواہش اور تمنا میں جل رہے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت تھوڑی سے بڑھ کر اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے اور اتنا وسیع کام اس کے سامنے ہے کہ جو قومیں اس مقام پر پہنچ جاتی ہیں، وہ یا تو اوپر نکل بھائی اور سب روکاوٹوں کو توڑ ڈالتی ہیں یا پھر تنزل کے گڑھے میں گر جاتی ہیں۔دراصل یہ مقام سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے بہت لوگ جب یہاں ہے، گر بجاتے ہیں تو پتہ بھی نہیں چلتا کہ کہاں چلے گئے۔مگر بہت اس مقام سے آگے بڑھ کر اس درجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ انہیں خدا تعالے کا عرش نظر آنے لگتا ہے۔وہ خدا تعالے کی باتیں سننے اور اس کے خاص انعامات کے مور د یتے ہیں۔خدا ان کا ہو جاتا ہے وہ خدا کے ہو جاتے ہیں۔پس اس نازک وقت اور نازک مقام کی وجہ سے جماعت کی ذمہ داریاں بہت اہم ہیں اور آج آپ لوگوں کو سمجھ لینا چاہیئے اور اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ وہ وقت آگیا ہے کہ یا تو ہمارا قدم نہایت بلند مقام کی طرف اُٹھے گا یا پھر نیچے گر جائے گا " سے۔دوسرے دن ( ۲۳ فتح دسمبر کی ظہر سے قبل سیدنا دو روز خواتین کی جنگلہ میں تقریر اصلی ہالیجو نے خواتین کی بارگاہ میں جو حسب سابق مسجد نور سے متصل مشرقی جانب تھی، تقریبہ فرمائی جس میں بجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ایک مہینہ کے اندر اندر یعنی جنوری سام و ختم ہونے سے پہلے وہ اپنے دفتر کو منظم کرلیں" اس اہم ارشاد کے بعد حضور نے لجنہ کو احمدی خواتین کی تنظیم کی نسبت بیش قیمت ہدایات سے نوازتے ہوئے ارشاد فرمایا :- جنہ اماءاللہ کا پہلا قدم یہ ہونا چاہیئے کہ جب ان کی تنظیم ہو جائے تو جماعت کی تمام عورتو کو لکھنا پڑھنا سکھا دے۔پھر دوسرا قدم یہ ہونا چاہئیے کہ نماز ، روزہ اور شریعیت کے دوسرے موٹے موٹے احکام کے متعلق آسان اُردو زبان میں مسائل لکھ کر تمام عورتوں کو سکھا دیئے بھائیں اور پھر تیسرا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ہر ایک عورت کو نماز کا ترجمہ یا د ہو جائے تاکہ ان کی نماز طوطے " الفضل " - دسمبر ۱۳۲۳ مه بیش صفحه ۳-۵۴۲ ار سمیره