تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 204 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 204

19A میں پائی جاتی ہیں۔بیشک آجکل یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ ہماری موجودہ کتابوں میں وہ باتیں نہیں پائی جاتیں ہو قرآن مجید ہماری طرف منسوب کرتا ہے لیکن ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر یہ باتیں آسیکل تمہاری کتب میں نہیں پائی بھائیں تو اس کا قرآن ذمہ دار نہیں کیونکہ تمہاری کتابوں میں تحریف ہو چکی ہے۔یہ باتیں اُس وقت تمہاری کتابوں میں پائی جاتی تھیں جب قرآن مجید نازل ہوا تھا۔پس قرآن مجید وہی باتیں دوسرے مذاہب کی طرف منسوب کرتا ہے جن کے متعلق یا تو ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ جس زمانہ میں قرآن مجید نازل ہوا اس وقت یہ باتیں ان مذاہب میں پائی جاتی تھیں اور یا ایسی باتیں دوسرے مذاہب کی طرف منسوب کرتا ہے جن کو وہ لوگ اب بھی مانتے ہیں اور وہ باتیں اسی رنگ میں ان کے اندر پائی جاتی ہیں اس رنگ میں قرآن مجید پیش کرتا ہے اسی طرح مخالف قرآن مجید کی کوئی ایک آیت بھی ایسی پیش نہیں کر سکتا جس میں کوئی ایسی بات کہ کر دوسرے مذہب پر اعتراض کیا گیا ہو جیس کو قرآن مجید خود بھی مانتا ہو بلکہ دیانت داری سے قرآن مجید دوسرے مذہب کی انہی باتوں پہ اعتراض کرتا ہے جن کو خود نہیں مانتا۔پس یہ دو اصول د نظر رکھتے ہوئے اگر عام مقررہ قانون کے ماتحت گورنمنٹ مضبیلی کا حکم لگاتی تو آریہ سماج کوئی وجہ شوہر پیدا کرنے کا نہ پاسکتی اور یہ اینٹی قرآن ایجی ٹیشن کا ڈھکوسلہ چل ہی نہ سکتا۔نیز یہ امر بھی قابل غور ہے کہ وہی حصہ ستیارتھ پرکاش کا ضبط نہ ہونا چاہیے تھا جو اسلام کے علاوت ہے بلکہ وہ حصہ بھی ضبط ہونا چاہیئے تھا جو عیسائیت کے خلاف ہے، جو ہندو مذہب کے خلاف ہے، جو جین مذہب کے خلاف ہے، جو سکھ مذہب کے خلاف ہے۔کیونکہ ستیار تھے پر کاش میں ان مذاہب کی طرت بھی وہ باتیں منسوب کی گئی ہیں جو اُن میں نہیں پائی جاتیں یا جو خود آریہ سماج کے مسلمات میں بھی ہیں۔اگر دل دُکھنا ضبطی کی دلیل ہے تو کیا سکھ کا دل نہیں دُکھتا ؟ کیا عیسائیوں کے بعد بات کو ٹھیس نہیں پہنچتی ہے جس طرح مسلمانوں کا دل دکھتا ہے اسی طرح سکھوں کا دل بھی دُکھتا ہے۔اسی طرح عیسائیوں کا دل بھی دُکھتا ہے۔پس گورنمنٹ کو چاہیے تھا کہ اگر ضبط کرتا تھا تو ایسے سب بابوں کو ضبط کرتی جو دوسرے مذاہب کے بارہ میں ہیں اور ان دو باتوں پر اس کی بنیاد رکھتی۔محض دل دکھنے پر بنیاد نہ رکھتی۔باتوں پہ اعتراض ہے۔پس ہمیں چالہ