تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 201
۱۹۵ که ریاست چمبہ میں صدر کونسل انتظامیہ کے بدلنے پر مسلمانوں کے لئے پہلے سے زیادہ پُر آشوب زمانہ آرہا ہے۔اس اطلاع پر حضرت امیر المومنین الصلح الموعود نے چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ ہی۔اسے ، ایل ایل بھی واقف زندگی کو ریاست جمیمہ میں بھیجوایا۔چودھری صاحب نے مسلمانان چمبہ کے زراعت پیشہ قرار دیا جانے، ان کی مذہبی آزادی اور ٹیکسوں میں تخفیف کے اہم معاملات کے سلسلہ میں ہر مکن کوشش کی بیلہ خلفاء کو اہم وصیت سیدنا حضرت میرالمومنین الی الوان رفتار کو تحریک جدید الصلح الموعود نے کے بعض اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے آئندہ آنے والے خلفاء کو وصیت فرمائی کہ ہمارا نظام بھی محبت اور پیار کا ہے۔کوئی قانون ہمارے ہاتھ میں نہیں کہ جس کے ذریعہ ہم اپنے احکام منوا سکیں۔بلکہ میری ذاتی رائے تو یہی ہے کہ احمدیت میں مخلافت ہمیشہ بغیر دنیوی حکومت کے رہنی چاہیے۔دنیوی نظام حکومت الگ ہونا چاہئیے اور خلافت الگ تا وہ شریعت کے احکام کی تعمیل کی نگرانی کر سکے۔ابھی تو ہمارے ہاتھ میں حکومت ہے ہی نہیں۔لیکن اگر آئے تو میری رائے یہی ہے ہر تخلفاء کو ہمیشہ عملی سیاسیات سے الگ رہنا چا ہیے اور کبھی بادشاہت کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کرنی چاہیے۔ورنہ سیاسی پارٹیوں سے براہ راست خلافت کا مقابلہ شروع ہو جائے گا اور خلافت ایک سیاسی پارٹی بن کر رہ جائے گی اور خلفاء کی حیثیت باپ والی نہ رہے گی۔اس میں شک نہیں کہ اسلام کے ابتداء میں خلافت اور حکومت جمع ہوئی ہیں مگر وہ مجبوری تھی کیونکہ شریعت کا ابھی نفاذ نہ ہوا تھا۔اور چونکہ شریعت کا نفاذ ضروری تھا اس لئے خلافت اور حکومت کو اکٹھا کر دیا گیا اور ہمارے عقیدہ کی رو سے یہ جائز ہے کہ دونوں اکٹھی ہوں اور یہ بھی جائزہ ہے کہ الگ الگ ہوں۔ابھی تو ہمارے ہاتھ میں حکومت ہے ہی نہیں مگر میری رائے یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ ہمیں حکومت دے اس وقت بھی خلفاء کو اسے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ الگ رہ کر حکومتوں کی نگرانی کرنی چاہئیے اور دیکھنا چاہیئے کہ وہ اسلامی احکام کی پیروی کریں اور ان سے مشورہ لے کر چلیں اور حکومت کا کام سیاسی لوگوں کے سپرد ہی اپنے اہ ریاست چنبہ کے فرمانی وا را بعد رام سنگھ جی دسمبر ۱۹۳۵ء میں سرگباش ہو گئے اور ان کی جگہ ان کے بیٹے راجہ مسمن بھی ادی نشین ہوئے لکشمن جی چونکہ ان دنوں ایچی سن کالج لاہور میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اس لئے ان کی نا بالغی کے زمانہ میں ریاستی انتظام کے لئے ایک کونسل آف ایڈ منسٹریشن مقرر کر دی گئی تھی (تذکرہ روڈ سائے پنجاب جلد دوم مؤلفہ سر لیپل انکا گریفین و کرنل میسی مترجم سید نوازش علی طبع دوم سر و صفحه ۴۸۳) کے رپورٹ سالانه صد ر امین احمدیر ۲۳ ۱۳۳۳ اسمش صفحه ۱۳۰