تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 184
14A جہاں کسی کھاتے پیتے آدمی کا رشتہ ان کے سامنے آجائے وہ فورا کہہ دیں گے ہاں ٹھیک ہے۔یہ لڑکی ایک اور دیندار ہے۔اس وقت انہیں نیکی بھی نظر آنے لگ جائے گی۔اتقاد بھی نظر آنے لگ سجائے گا۔تعلیم بھی نظر آنے لگ جائے گی اور وہ اس رشتہ پر رضامند ہو بھائیں گے لے حضرت امیرالمومنین الصلح الموعود نے خطبہ کے آخر میں جماعت احمدیہ کو یہ نصیحت فرمائی کہ یا درکھو دُنیا انہی لوگوں کے پیچھے پھرا کرتی ہے جو دنیا کو کلی طور پر چھوڑ دیتے ہیں۔وہ خدا کے لئے دنیا چھوڑتے ہیں اور دنیا کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ ان کے پیچھے پیچھے بھاگتی پھرتی ہے۔اور انسان حیران ہوتا ہے کہ اب میں جاؤں کہاں! لیکن جب تک دنیا پر نگاہ رکھی جائے دنیا آگے آگے بھاگتی ہے اور انسان اس کے پیچھے پیچھے دوڑتا ہے مگر پھر بھی اُسے دُنیا حاصل نہیں ہوتی ہے استی نا المصلح الموعود کی خدمت میں یہ انتہائی افسوسناک اطلاعات جذبہ اطاعت کے فروغ کیلئے اہم پہنچیں کہ بعض تو جوان سلسلہ کے نظام کا احترام نہیں کرتے اور اپنے فردوں کی اطاعت کرنے کی بجائے سرکشی اختیار کرتے ہیں۔یہ چیز چونکہ سلسلہ احمدیہ کے لئے ستم قاتل کی حیثیت دیکھتی تھی۔اس لئے حضرت سیدنا الصلح الموعود نے ہر احسان /جون یہ بہش کو اطاعت کی اہمیت پر ایک مفصل خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا :- سلسلہ مقدم ہے سب انسانوں پر سلسلہ کے مقابلہ میں کسی انسان کا کوئی لحاظ نہیں کیا جائے گا خواہ وہ کوئی ہو یعنی کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیٹا بھی مجرم ہو تو اس کا بھی لحاظ نہیں کیا جائے گا۔کوئی انسان بھی سلسلہ سے بالا نہیں ہو سکتا۔اسلام اور قرآن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی بالا ہیں۔اسی طرح احمدیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی بالا ہے۔اسلام اور احمدیت کے لئے اگر ہمیں اپنی اولادوں کو بھی قتل کرنا پڑے تو ہم اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیں گے لیکن سلسلہ کو قتل نہ ہونے دیں گے۔پس تم اپنے اندر سلسلہ کی صیحیح اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ پیدا کرو۔اگر تم چاہتے ہو کہ عد اتعالیٰ کا فضل تم یہ نازل ہو۔اگر تم چاہتے ہو کہ ہے دینوں کی موت نہ مرد اور ایسے مقام پر کھرے نہ ہو کہ موت سے پہلے اللہ تعالے تم کو مرتدین میں داخل کر دے تو اپنے اندر صحیح اطاعت اور فرمانبرداری له و سه " الفضل " ۲۲ احسان جون از پیش صفحون من الم به - / نہ