تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 183 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 183

144 حضور پر نور نے اپنے خطبہ نکاح میں جماعت کی اصلاح اور اس کے حالات کی درستی کے لئے دو نباتات اہم اور ضروری باتوں کی طرف توجہ دلائی۔ا پہلی اصلاح طلب بات حضور نے یہ بیان فرمائی کہ۔جب کبھی وقعت زندگی کی تحریک کی جائے اور نوجوانوں سے کہا جائے کہ وہ اپنے آپ کو قدمت دین کے لئے وقت کریں تو اول تو کھاتے پیتے لوگوں کی اولاد وقف زندگی کی طرف آتی ہی نہیں اور پھر جو لوگ آتے ہیں مراد ان کی طرف تحقیر کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔اور سمجھتے ہیں کہ ان سے بات کرنا یا ان کے ساتھ چھلنا پھرنا ہماری طرف سے ایک قسم کا تذلل ہے ورنہ خود یہ اس بات کے مستحق نہیں ہیں۔اسی طرح ان کی شادیوں اور بیا ہوں میں بڑی وقتیں پیش آتی ہیں۔اور میرے نزدیک یہ امر بہت بڑے قومی تنزل کی ایک علامت ہے۔اگر واقعہ میں درست ہے کہ اِن اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللہ ان کو تو خدا تعالیٰ کے حضور میں کو عورت حاصل ہو تمہیں انھی کو عزت دینی چاہئیے۔یا تو ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیئے کہ جو شخص بڑا دنیا دار ہو وہ خدا تعالیٰ کے حضور معزز ہوتا ہے۔اور اگر یہ بات درست نہیں تو پھر اللہ تعالے جن کو عزت دیتا ہے یقینا ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم انہیں کو عزت دیں۔اور ہمیں سمجھ لینا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ کے دربار میں عزت پانے والے کے مقابلہ میں دنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔نہ قیصر اس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت رکھتا ہے نہ کوئی اور بادشاہ یا پریزیڈنٹ اس کے مقابل پر کوئی عزت رکھتا ہے۔بے شک دنیوی بادشاہ بھی عزتیں رکھتے ہیں مگر انہیں دنیا کی عزتیں ہی حاصل ہیں ، اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی کوئی عزت نہیں" دوسری ضروری بات جو براہ راست واقفین زندگی سے متعلق تھی وہ حضور ہی کے الفاظ میں درج ذیل کی بھاتی ہے۔حضور نے فرمایا :- اس کے مقابلہ میں جو واقف ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ جب غریب لڑکیوں کے رشتے ان کے سامنے پیش کئے جائیں تو وہ ان میں کئی کئی نقص نکالیں گے۔کبھی کہیں گے تقویٰ اعلی درجہ کا نہیں۔کبھی کہیں گے تعلیم زیادہ اعلیٰ نہیں کہیں کہیں گے سلسلہ سے انہیں محبت کم ہے۔لیکن سورة الحجرات آیت ۱۴۷