تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 177
۱۷۲ دوبارہ اسلام کا جھنڈا گاڑیں گے۔چنانچہ حضرت امیرالمومنین المصلح الموعود نے ، شہادت / اپریل پر پیش کو قادیان میں ایک ولولہ انگیز / خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : تاریخ اسلام کی ان باتوں سے جو مجھے بہت پیاری لگتی ہیں۔ایک بات ایک ہسپانوی جرنیل کی ہے جن کا نام غالباً عبد العزیزہ تھا۔جب سپین میں مسلمانوں کی طاقت اتنی کمز در ہو گئی کہ ان کے ہاتھ میں صرف ایک قلعہ رہ گیا جو آخری قلعہ تھا تو عیسائیوں نے ان کے سامنے بعض شرائط پیش کہیں اور کہا کہ اگر بچنا چاہتے ہو تو ان کو مان لو۔وہ شرائط ایسی تھیں کہ جنہیں مان کر اسلام سپین میں عزت کے ساتھ نہ رہ سکتا تھا۔بادشاہ وقت ان شرائط کو ماننے کے لئے تیار ہو گیا۔دوسر جرنیل بھی تیار تھے۔مگر یہ جرنیل کھڑا ہوا۔اور کہا کہ اسے لوگو ! کیا کرتے ہو ؟ کیا تمہیں یقین ہے کہ عیسائی اپنے وعدوں کو پورا کریں گے۔ہمارے باپ دادا نے سپین میں اسلام کا بیج بویا تھا۔اب تم لوگ اپنے ہاتھوں سے اس درخت کو گرانے لگے ہو۔ان لوگوں نے کہا کہ سوائے اس کے ہو کیا سکتا ہے۔دشمن سے کامیاب مقابلہ کی صورت ہے ہی کیا ؟ اسی جو نہیں نے کہا۔یہ سوال نہیں کہ دشمن نے کامیاب مقابلہ کی صورت کیا ہے ؟ نہ ہمیں اس کے سوچنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنا فرض ادا کرنا چاہئیے اور ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ مر جائے مگر ان شرائط کو تسلیم نہ کرے اس طرح یہ ذلت تو نہ اُٹھانی پڑے گی کہ اپنے ہاتھ سے حکومت دشمن کو دے دیں جو کچھ تمہارے اختیار کی بات ہے وہ کر دو اور باقی خدا تعالے پر چھوڑ دو۔یہ بات سنگر وہ لوگ ہنسے اور کہا کہ اس قربانی کا کیا فائدہ ؟ اور سب نے انکار کیا۔مگر اس نے کہا کہ اگر تم اس بے غیرتی کو پسند کرتے ہو تو کرو میں تو اپنے ہاتھ سے اسلامی جھنڈا دشمن کے حوالے نہ کروں گا۔قریباً ایک لاکھ کا شکر تھا جو قلعہ کے باہر جمع تھا۔وہ اکیلا ہی تلوار لے کر باہر نکلا۔دشمن پر حملہ کر دیا اور لڑتے لڑتے شہید ہوگیا۔بیشک اس کی شہادت کے باوجود سپین میں مسلمانوں کی حکومت تو قائم نہ رہ سکی مگر اس کا نام ہمیشہ کے لئے زندہ رہ گیا اور موت اُسے مٹانہ سکی۔وہ بادشاہ اور جرنیل جنہوں نے اس کے مشورہ کو تسلیم نہ کیا اور اپنی جانیں بچائی چاہیں وہ مٹ گئے۔ان کا ذکر پڑھ کہ اور شنگر ہم اپنے نفسوں کو بڑے زور سے ان پر لعنت کرنے سے رو کہتے ہیں۔لیکن کبھی سپین کے حالات