تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 172
144 ہے تو وہ یقین نہیں کرتے کہ اتنی تھوڑی رقم میں اتنی بڑی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم اُن سے چھالا کی کہ رہے ہیں، صحیح رقم بتانے کے لئے تیار نہیں۔تو جہاں تک ضروریات اور اسباب کا سوال ہے اللہ تعالٰی نے شہ سے ہی اس ادارے پر اپنا خاص فضل کیا ہے اور اپنی رحمتوں کے سائے میں اُسے رکھا ہے۔وہ ہماری کمزوریوں کو اپنی مغفرت کی چادر سے ڈھانپ لیتا ہے اور نتائج محض اس کے فضل سے اچھے نکلتے ہیں۔میرے دل میں کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہوا۔اور مجھے یقین ہے کہ میرے ساتھیوں کے دل میں بھی کبھی یہ خیان پیدا نہیں ہوا ہو گا کہ یہ سب کچھ ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے کیونکہ ہم اپنی کوششوں کو خوب جانتے ہیں اور ہم سے زیادہ ہمارا رب بھانتا ہے۔جس ادارے پر اللہ تعالیٰ نے اس کثرت کے ساتھ اپنے فضل اور احسان کئے ہوں اس ادارہ کی طرف منسوب ہونے والے خواہ وہ پر وفیسر ہوں یا طلبہ ان سب کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر وقت اپنے رب کی حمد کرتے رہیں تاکہ اس کے فضلوں کا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے۔جہاں تک میرے جذبات کا سوال ہے تو جو میرے بعد بات پہلے جامعہ احمدیہ کے متعلق تھے وہی جذبات میرے دل میں اس ادارہ کے متعلق پیدا ہوئے اور میں اپنے دل کو ، اپنے دماغ کو اور اپنے جسم کو اس ادارہ کے لئے خدا کے حضور بطور وقت پیش کر دیا اور بڑی محبت اور پیار کے ساتھ اس کو چلانے کی کوشش کی اور ان طلبہ کو جو یہاں تعلیم پاتے تھے میں نے اپنے بچوں سے زیادہ عزیز سمجھا۔بیشک میں نے جہاں تک مناسب سمجھا سختی بھی کی۔لیکن اس وقت سختی کی جب میں نے اُسے اصلاح کا واحد ذریعہ پایا اور بعد میں مجھے اس دُکھ کی وجہ سے راتوں جاگنا پڑا کہ کیوں میرے ایک بچہ نے مجھے اس سختی کے لئے مجبور کر دیا حتی کہ مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا۔کئی راتیں ہیں جو میں نے آپ کی خاطر جاگتے گزار دیں اور ہمیشہ ہی آپ کے لئے دکھائیں کرتا رہا اور پھر میں نے اپنے رب کا پیار بھی محسوس کیا کہ وہ اپنے فضل سے میری اکثر دعائیں قبول کرتا رہ اور کبھی کسی موقعہ پر بھی میرے دل میں ناکامی نامراد کی یا نا امیدی کا خیال تک پیدا نہیں ہویا، اور نہ ہی ان دلوں میں پیدا ہونا چاہیئے جنہوں نے اس کام کو کرنا ہے " له الفضل دار فتح / دسمبر له میش : +