تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 108
١٠ فصل نجم بود میں تعلیم السلام کالج کی مستقل عمر کی تعمیر فتاح اور اُس کی گرانقدر مساعی مصلح موجود کے اختتام تک ۲۶ احسان الیون سے نبوت / نومبر ) حضرت مصلح موعود کا منشار مبارک تھا کہ تعلیم الاسلام کالج کو دوسرے جماعتی اداروں کی طرح جلد سے جلد جماعت کے نئے مرکز ربوہ میں منتقل کیا جائے تا اس کے نو نہاں خالص دینی فضا میں تربیت پاسکیں اگر چہ اس وقت کی اس نقل مکانی کی افادیت کالج کے بعض پروفیسر صاحبان کی سمجھ میں نہ آسکی اور ان کا اصرار تھا کہ کالج کو لا ہو رہی میں رہنے دیا جائے مگر حضرت خلیفہ اسیح الثانی المصلح الموعود نے ارشاد فرمایا کہ قادیان سے ہجرت کے بعد تمام کاروبار اور ادانہ بات دوبارہ جاری کرنے کا حق سب سے پہلے ربوہ کا ہے اس کے بعد اگر حجاب بجامات یا دیگر اصحاب کوئی کا لج یا سکول چلانا چاہیں تو اس شہر کی جماعت کو خود کوشش کرنی چاہیئے تے ریوں میں کالج اور ہوسٹل کے لئے زمین مخصوص ہو چکی تھی اور اس پر کالج بنانے کا منصوبہ عمل میں آچکا تھا۔نفسٹے اور ڈیزائن بنانے کا کام قاضی محمد رفیق صاحب دلیکچر ا نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کو دیا گیا حضرت مصلح موعود کے سامنے جب کالج کا نقشہ رکھا گیا تو حضور نے فرمایا کہ ” ہمارے پاس اتنی بڑی عمارت کے لئے رقم ن بنیادی کا نہیں بھور تم ہے اس کے مطابق عمارت کا کچھ حصہ بنا لیا جائے اور کالج شروع کیا جائے " سگے کالج کی تعمیر کی نگرانی سید سردار حسین شاہ صاحب کے سپرد ہوئی سیاہ شاہ صاحب نے حضرت پرنسپل صاحب تعلیم الاسلام کا لج حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالی سے ملاقات کی۔آپ ان دنوں جیسا کہ پچھلی فصل میں ذکر آچکا ہے جیل خانہ میں تھے۔آپ نے ان کو کالج شروع کرنے له بروایت عبد الرحمن صاحب جنید ہاشمی سابق سپرنٹنڈنٹ تعلیم الاسلام کا لج ربوہ حال نائب ناظر بیت المالی سے بروایت چوہدری غلام حیدر صاحب سینر کیمرار اسٹنٹ تعلیم الاسلام کا لج و سابق ناظم املاک و تعمیر کا لی ہے کے روئید او تعلیم الاسلام کانچ کے کی رپورٹ سالانہ مصور این احمد به پاکستان باست ۲۵۳ ۵ اسفه ۶۵ -