تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 84
AN کے اس یادگار دن تک آپہنچے ہیں جو قادیان میں کالج کی تعلیمی سرگرمیوں کا آخری دن تھا۔اس روز حضرت صاحبزادہ برینا ناصر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ نے آرڈر ٹنگ سٹاف میں یہ تحریر فرمایا کہ کالج یکم جولائی عنہ سے گرمی کی تعطیلات کے لئے بند ہو کہ تیرہ کو دوبار کھلے گا۔یہ سرکا کالج کے دورف ادیان کا آخری فرمان ثابت ہوا۔کیونکہ مومی تعطیلات کے دوران ہی یہ ظہور اگست می کو ملکی تقسیم عمل میں آئی اور ساتھ ہی ہر طرف قتل و غارت کا بازار گرم ہوگیا۔ا اتارا اکتوبر پر پیش کوسات اور طلبہ کی موجودگی میں تعلیم الاسلام کالج اور فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی شاندار عمارتوں پر زبردستی قبضہ کرلیا گیا۔اور بیش قیمت اور جدید ترین آلات سائنس اور ہر قسم کے علوم و فنون پر شتل لائیبریری چھین لی گئی ہے حر صاحبزاد میرزا ناصراح صاحب موسمی تعطیلات میں کالج کے اثر اساتذہ وطلبہ قادیان سے باہر چلے گئے۔مگر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اپنے اللہ تعالے، یکم وفاء سے لے کر کی پاکستان میں بہت زیست او مبرا ہی پیش تک قادیان میں تشریف فرما رہے اور قیام امن و صلح کے لئے شب و روز مصروف عمل اور سرتا پا جہاد بتے رہے۔اسی دوران میں سیدتنا المصلح الموعود کی طرف سے پاکستان آجانے کا ارشاد ملا جس پر آپ ۱۶ نبوت نمیبر پارس کو قادیان کی مقدس اور پیاری بستی سے ہجرت کر کے پاکستان تشریف لے آئے اور ساتھ ہی تعلیم الاسلام کالج قادیان کے دور اول کی تاریخ کا آخری درق بھی الٹ گیا۔شده "الفضل" ، صلح /جنوری ۱۳۲۷ میش صفحه ۵۰۴ "المنار" احسان / مئی جون لله مش صفحه ۲۲ ۰ الفضل مسلح جنوری اور پیشی صفحہ ۴۔آپ جس کنوئے میں قادیان سے لاہور پہنچے۔وہ دس ٹرکوں پرمشتمل تھا۔صفحہ ۴۔اس کٹواٹ کے بغیریت پہنچنے کی خیر" الفضل مدنبوت تو بر میں صفحہ ا پر چھپ گئی تھی۔۱۳۳۶ " بر سلام