تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 638
41- سطین کے دونوں طرف کرسیاں اور باقی جگہ پہ دریاں بچھائی گئیں میرالمومنین حضرت علی تر ایچ ای سی او اور اس میں شمولیت فرانے کیلئے وہ شہادت امیرالمومنین کی دلی میں اس ایریا کی ہی کو بے ایریا سے وہ اپنے بیان پرایک بہت برا بھی حضور کے استقبال کے لئے موجود تھا دلی کے امیر جماعت باہر نذیر احمد صاحب کی طرف سے ہدایت تھی کہ کوئی صاحب اس موقعہ پر مصافحہ نہ کریں اور اس ہدایت کی خود انہوں نے بھی پابندی کی حضرت امیر مومنین خدام کے بہت بڑے ہجوم میں بٹیشن سے باہر تشریف لائے اور نئی دہلی کی کوٹھی چونڈ سرپیلیں میں قیام فرما ہوئے۔جہاں حضرت حافظ صاحبزادہ مرزا ناصر احا طائب اپنی بیگم صاحبہ کے علاج کے لئے پہلے سے فروکش تھے۔حضرت امیر مومنین سیار بچے کے قریب جلسہ گاہ میں رونق افروز ہوئے۔اور شہر و عصر کی نمازیں قصر کر کے پڑھائیں اس وقت تک ہر مذہب و ملت کے بہت سے لوگ جلسہ گاہ میں پہنچ چکے تھے یہ ٹھیک ساڑھے چار بجے جلسہ کی کاروائی کا آغاز کیا گیا۔سب سے پہلہ نسب سابق حضرت صاحبزادہ میرزا ناصر احمد صاحب سورہ بنی اسرائیل کے نویں رکوع کی تلاوت کے لئے کھڑے ہوئے۔ابھی آپ نے قرآن مجید کی تلاوت شروع ہی فرمائی تھی کہ ایک شورش پسند طبقہ نے جو جلسہ کو درہم یہ تم کرنے کی غرض سے آیا تھا اور بڑے دروازہ کے سامنے کھڑا تھا گالیاں دیتے اور شور مچاتے ہوئے مداخلت شروع کر دیتی۔جب ان لوگوں کو مل گئے سے باہر نکال دیا گیا تو سات آٹھ ہزار کا ایک بہت بڑا ہجوم جلسہ گاہ کے ارد گرد جمع ہو گیا۔عین اس وقت جب شور و غوغا بلند ہورہا تھا حضرت امیر مومنین الصلح المو دو نے ہدایت فرمائی کہ ہماری جماعت کے سب دوست بیٹھ جائیں اور اگر کوئی باہر گئے ہوں تو واپس آ جائیں خواہ اُن کو کوئی مارے اور بیٹے وہ کوئی جواب نہ دیں۔سیل کا آغاز تہ اس کے بعد کچھ دیر تک پنڈال میں خاموشی طاری رہی۔اس دوران میں حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد نے صلح موعود کی پیشگوئی سے متعلق مختصر تقریر کی پر حضرت امیر المومنین نے اپنی نہایت ایمان افروز تقریر شروع فرمانی حس پر شور و شر پیدا کر نہ مانے ہجوم کا ایک حصہ دوبارہ گالیاں رہتا اور شور کرتا ہوائی پر حملہ کرنے کی نیت سے آگے بڑھا۔جیسے اکھیوں نے روک دیا اور منور کی تقریر جاری رہی۔اس پر پنڈال سے باہر تمل نجوم نے جلسہ گاہ پر سلسل پھر برسانا شروع کر دیتے۔ور پر دور کرتا ہوا مستورات کی بعد گاہ کی طرف بڑھنے لگا۔مجھے روکنے کے لئے احمدی نوجوان قناتوں سے باہر صف باندی کے لة الفضل " - شہادت پر تھے 40 سے اس ہنگامہ کی نسبت دہلی کے اخبار انصاری نے بیان دیا :- و مرزا بشیر الدین محمود بولنے کے لیے گھرانے دئے بہت سے لوگوں نے انہیں بولنے سے روکا اور مختلف اقسام کے نعرے بلند کئے " بالفاظ دیگر کوئی فقرہ بنے بغیرای شورش بر پا کردی گئی۔مگر اصل حقیقت یہی تھی کہ ختنہ کی ابتداء حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی تقریر کے وقد نہیں جگروں سے قبل تلاوت قرآن مجید سکھ شروع میں کی گئی تھی جس کے لئے کوئی وجہ جواز نہ ستی ،