تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 630 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 630

۶۰۲ بعض قرآنی دعاؤں کی تلاوت کے بعد اپنا روح پر ور خطاب مندرجہ ذیل الفاظ سے شروع فرمایا۔میں آج اس میگہ اس لئے کھڑا ہوا ہوں کہ آج سے ۵۵ سال پہلے خدا تعالے کی بتائی ہوئی خبروں اور اس کے ارشاد فرمائے ہوئے حکم کے ماتحت اس شہر لدھیانہ میں ۲۳ مارچ شاہ کو حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ نے بعیت کی تھی اور اس بیعت کے وقت صرف چالیس آدمی آپ پر ایمان لانے والے تھے یہ ساری کی ساری پونجی تھی جسے لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسلام کی فتح کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔باقی تمام دنیا ہندو، عیسائی ، سیکھ ، ہندوستانی ، ایرانی اور برطانی سب کے سب آپ کے مخالف تھے اور آپ کو مٹا دینے پر تلے ہوئے تھے مگر ان مخالفتوں کے باوجود آپ نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کہ دنیا کو بتایا کہ دنیا میں ایک نذیمہ آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا۔اور بڑے زونہ آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کر دے گا۔اس اعلان کے بعد با وجود شدید مخالفتوں کے اللہ تعالٰی نے آپ کے سلسلہ کو بڑھانا شروع کیا “ ان تمہیدی کلمات کے بعد حضور نے پیشگوئی مصلح موعود کا تذکرہ کیا۔اور پھر اہل لدھیانہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ہوشیار پور میں بھی ایسا ہی جلسہ کیا تھا مگر وہاں کسی نے کوئی مخالفت نہیں کی۔پھرلاہور میں پندرہ ہزار کے مجمع میں میں نے تقریر کی۔وہاں بھی کسی نے کوئی مخالفت نہیں کی۔مجھے کئی دفعہ یہ خیال آتا تھا کہ خدا تعالے کی طرف سے جن باتوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔اُن کی مخالفت لوگ ضرور کرتے ہیں۔معلوم نہیں میرے اس اعلان کے بعد کہ یہ پیشگوئی پوری ہو چکی ہے اب تک کسی نے مخالفت کیوں نہیں کی۔سو خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج لدھیانہ میں یہ مخالفت بھی ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کے قانون اور انبسیار کی سنت کے مطابق لدھیانہ کے لوگوں نے اللہ تعالے کی باتوں پر استہزاء کیا۔وہ ایک دائمی حیات پانے والے انسان کے متعلق کہہ رہے تھے کہ مرگیا۔مگر ہم ان لوگوں سے ناراض نہیں ہیں جنہوں نے اللہ تعالے کی باتوں سے استہزاء کیا ہم اُن کے لئے بھی دعا ہی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آے سه مولوی محمد یعقوب صاحب طائر انچارج صیغہ زود نویسی) نے نہ صرف ہوشیار پور اور لاہور کی پوری تقادیر تیمبند کرلیں بکند لدھیانہ کی یہ تقریر معین بارش کے دوران نوٹ کی اور بعد ازاں دوسری تقریروں کے علاوہ اس تقریری متن بھی الفضل میں شائع کرا کے ہمیشہ کیلئے محفوظ کر دیا۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء "۔