تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 627
۵۹۹ اخبار تریلیوں میں جلسہ کی خیر اخبار تریلیون ( ارماری ) نے اپنے نمائندہ خصوصی کے ے قلم سے اس جلسہ کی رپورٹ ہم سب کے دوست ہیں کسی کے دشمن نہیں" اور "جماعت احمدیہ کے دوہرے عنوان سے شائع کی اس شہر کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے:۔لاہور ۱۲ مارچ - حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ نے اپنی جماعت کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے پٹیالہ گراونڈ میں شامیانہ کے نیچے آج سہ پہر کو تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ " ہندو سکھ عیسائی اور ہندوستان کی اقوام کے دیگر لوگ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ ہم ان سب کے دوست ہیں۔اور کسی کے دشمن نہیں۔اگرچہ ہم اسلام کا پیغام ہر جگہ پہنچانا چاہتے ہیں" احمدیہ جماعت کے بہت سے افراد صوبہ کی مختلف اطراف اور شمال مغربی سرحدی صوبہ سے آئے ہوئے تھے۔انہوں نے اپنے مذاہبی امام کی تقریر مکمل خاموشی کے ساتھ دو گھنٹہ تک سنی۔مہر بخاموشی صرف اسی وقت ٹوٹتی تھی جبکہ گا ہے جگا ہے حاضرین میں سے بہت سے افراد کے آنسو بہنے لگتے تھے۔جیگری امام جماعت احمدیہ قرآن سے بعض آیات کی تلاوت فرماتے تھے۔پولیس کے بہت سے سپاہی بہتر ایشور داس صاحب انسپکٹر اور سردار ہر دیپ سنگھ صاحب سب انسپکٹر گوالمنڈی کی قیادت میں موجود تھے۔امام جماعت نے اپنے خاندان کی تاریخ تفصیل سے پیش کی اور آپ نے بیان فرمایا کہ ان کا خاندان تیمور کی اولاد میں سے ہے۔اپنی پیدائش اور پیشنگوئی کا ذکر کرتے ہوئے جو اُن کے والد ماجد بانی سلسلہ احمدید نے شائع فرمائی تھیں حضرت مرزا صاحب امام جماعت احمدیہ نے بیان فرمایا کہ آپ ہی موعود " امن کے شہزادے ہیں جن کے متعلق بانی سلسلہ نے بعد اسے الہام پا کر پیش گوئی فرمائی تھی۔اُن حالات کا ذکر فرماتے ہوئے جن میں امام جماعت احمدیہ جماعت کے خلیفہ مقرر ہوئے۔آپ نے فرمایا جب آپ خلیفہ مقرر ہوئے تو اُن کے پاس خودانہ میں صرف چودہ آنے تھے اور کئی ہزار کا جماعت کے بینم پر بار تھا۔آپ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کی راہبری کرنے اور قرآن کریم (خدا تعالیٰ کے پیغام) کی تفسیر کرنے کے لئے مبعوث ہوئے ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے تفصیلاً بیان فرمایا کہ کس طرح اُن کو کشمت میں بتلایا گیا کہ مسلطنت برطانیہ فرانس کی حکومت کے سامنے یہ پیش کش کرے گی کہ دونوں حکومتیں اس وقت جبکہ حالات نازک ہو جائیں گے متحجر