تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 626 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 626

۵۹۸ اختتامی کلمات اما استید تا لمصلح الموعود کی دوسری اور اختتامی محرکة الآراء تقریر مندرجہ ذیل الفاظ پر ختم ہوئی۔اسے اہل لاہور ہائیں تم کو خدا کا پیغام پہنچاتا ہوں۔میں تمہیں اسی انزلی ایدی خدا کی طرف بلاتا ہوں جس نے تم سب کو پیدا کیا۔تم مت سمجھو کہ اس وقت میں بول رہا ہوں اس وقت میں نہیں بول رہا بلکہ خدا میری زبان سے بول رہا ہے۔میرے سامنے دین اسلام کے خلاف جو شخص بھی اپنی آواز بلند کہے گا اس کی آواز کو دیا دیا جائے گا جو شخص میرے مقابلہ میں کھڑا ہوگا وہ ذلیل کیا جائے گا، وہ رُسوا کیا جائے گا ، وہ تباہ اور پر یاد کیا جائے گا۔مگر ن دا بڑی عورت کے ساتھ میرے ذریعہ اسلام کی ترقی اور اس کی تائید کے لئے ایک عظیم الشان بنیاد قائم کر دے گا۔میں ایک انسان ہوں۔میں آج بھی کر سکتا ہوں اور گل بھی مر سکتا ہوں۔لیکن یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ہمیں اس مقصد میں ناکام رہوں جس کے لئے خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے۔۔اگر دنیا کسی وقت دیکھ لے کہ اسلام مغلوب ہو گیا۔اگر دنیا کسی وقت دیکھ لے کہ میرے ماننے والوں پہ میرے انکار کرنے والے غالب آگئے تو بے شک تم سمجھ لو کہ میں ایک مفتری تھا لیکن اگر یہ خبر سیچی نکلی تو تم خود سوچ لو تمہارا کیا انجام ہو گا کہ تم نے خدا کی آواز میری زبان سے سُنی اور پھر بھی اُسے قبول نہ کیا۔لہ حضور نے یہ آخری تقریر صرف چند منٹ فرمائی۔مگر ایسے پر علال الفاظ میں کہ اگر فر کو ایک پہاڑ سے تشبیہ دی جائے تو بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ حضور کی اس تقریرہ نے اس کو پاش پاش کر دیا۔حق ظاہر ہو گیا اور باطل بھاگ گیا۔چھ بجے کے قریب نئے دور کا یہ دوسرا مبارک جلسہ دکھا پر ختم ہوا۔اور سب دوست اللہ تعالٰی کے اس تازہ نشان پر حمد اثناء اور تسبیح وتحمید کرتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹے یہ جلسہ صرف تین گھنٹے رہا۔مگر قلوب میں کس نے ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہو مدتوں تک تازہ رہیں گے بیلے جلسہ کے اختتام کے بعد سیدنا المصلح الموعود اپنی قیامگاہ یعنی شیخ بشیر احمد صاحد ایٹے کیٹ جلسہ کے بعد کے مکان پرتشریف لے گئے اور وہیں غرب عشا کی نمازیں جمع کرکے پڑھائیں۔ازاں عد بعض احباب کے ساتھ اس کمرہ میں تشریف لے گئے جس میں اللہ تعالیٰ نے بذریعہ رویا ر یہ انکشاف فرمایا تھا کہ آپ ہی مصلح موجود ہیں حضور نے دوستوں کو وہ چار پائی بھی دکھائی جس پر اس روباز کے وقت حضور آرام فرما رہے تھے بے له الفضل ندا تاریخ فروری اش شاه امان اش است که مل هم الان لا املاک ش