تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 579
۵۵۸ کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو حضور نے دعوی مصلح موعود کے پہلے سال جاری فرمائیں اور جو اپنے اندر ستقل افادیت کی دونگی شان رکھتی ہیں خاندان سیح موعود کو خدمت دین حضرت خلیفہ ایسی الثانی الی الوانی قربانیوں کے مطالبات ا المصلح الموعود کی کے سلسلہ میں نئے اور مبارک دُور کی پہلی تحریک خاندان مسیح موعود کیلئے وقف ہو جانے کی تحریک سے متعلق تھی اور وہ یہ کہ اتنا فارس اپنی تمام زندگی خدا تعالی کے تھی اور وہ یہ اپنی لئے وقف کر دیں۔چنانچہ حضور نے۔ارامان / مارچ پیش کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :- ۱۳۳۳ :- ہے دیکھو ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ کے اس قدر احسانات ہیں کہ اگر مسجدوں میں ہمارے ناک گھیس جائیں، ہمارے ہاتھوں کی ہڈیاں گھیس بھائیں تب بھی ہم اس کے احسانات کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری موعود کی نسل میں ہمیں پیدا کیا ہے اور اس فخر کے لئے اس نے اپنے فضل سے ہمیں چن لیا ہے پس ہم پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائدہ ہے۔دنیا کے لوگوں کے لئے دنیا کے اور بہت سے کام پڑے ہوئے ہیں مگر ہماری زندگی تو کلینر دین کی خدمت اور اسلام کے اختیار کے لئے وقف ہونی چاہیئے۔اس تحر یک وقت پر سب سے پہلے حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب نے لبیک کہا۔چنا نچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی الصلح الموعود نے انہی دنوں فرمایا : "سب سے پہلے ہمارے خاندان میں سے عزیزم مرزا ناصر احمد نے اپنے آپ کو وقف کیا تھا “ ہے - دوسری تحریک حضرت سیدنا المصلح الموعود نے اسی تاریخ کو یہ فرمانی کہ تحریک وقت جائیداد میں تحریک وقت جائیداد ر ہم میں سے کچھ لوگ جن کو خدا تعالے توفیق دے اپنی جائیدادوں کو اس صورت میں دین کے لئے وقف کر دیں کہ جب سلسلہ کی طرف سے اُن سے مطالبہ کیا جائے گا۔انہیں وہ بھائید او اسلام کی اشاعت کے لئے پیش کرنے میں قطعا کوئی عذر میں ہوگا " اس تحریک کے اعلان سے قبل پہلے خود حضور نے پھر چودھری محمد ظفراللہ خان صاحب نے اپنی بجائیدادیں اسلام احمدیت کے لئے پیش کر دی تھیں۔ازاں بعد جب حضور نے اپنی زبان مبارک سے پہلی بار خطبہ جمعہ میں تحریک فرمائی تو قادیان کے دوسرے دوستوں نے بھی چند گھنٹوں کے اندر اندر قریباً چالیس لاکھ روپے کی جائیدادیں وقت کر دیں کہ جس " الفضل" بم ارامان ز مارچ یش صلا کالم ۲ : که " الفضل " ۱۲ صلح جنوری ۳۳۲ بر صفحه ۳ کالم ۲ 4 ما کالم لم : " الفضل " ۱۴ رامان / مارچ تر بیش صفحه ۱۳ کالم ۰۴