تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 35
۳۵ سے اصحاب استقبال کے لئے جمع تھے جنہیں حضور نے شرف مصافحہ بخشا دوبارہ روانگی حضرت امیرالمومنین خلیفہ ایسی اشانی قارین میں قریبا دو او کے قیام کے بعد ہر رہتے وئی ان کو دوبارہ کراچی تشریف لے گئے اور ۲۵ ہجرت مئی مین کو پانی ی شد شب بخیریت قاریان پہنچے ہیں اس سفرمی خاندان مسیح موعود میں سے حضرت یده ام تین نامه اجرای نام بیگم صاحبه، صابر ادامه این یگر ما به ماجرای ات العمری بیگم صاحبه اما ازادی اند الورود بیگم صاحبہ اور اراده مربا منصور احمد صاحب او ر ر ر ر دامود حباب میں سے حضرت مولوی فرزند علی خاں صاحب ناظر بیت المال ، حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب ، ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اسے پرائیویٹ سکرٹی منشی فتح دین صاحب ، خان میر صاحب افغان بھی منصور کے ہمرکاب تھے لیکے سمندر کی سیر اور عارفانہ کلام اس سفر من حضور ایک شب کلفٹن کی سیر کے لئے بھی تشریف لے اس سفر شہر لئے میں تشریف لے گئے جہاں سمندر کے کنارے پر چاند کا دلکش نظارہ کرتے ہوئے حضور کی توجہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس مشہور شعر کی طرف منعطت ہوگئی کہ چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بیکل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمالِ یار کا اس شعر کا خیال آتے ہی حضور پر محبوب حقیقی کی یاد میں ایک خاص کیفیت طاری ہوئی اور حضور کے قلب صافی سے عارفانہ کلام جاری ہو گیا۔چنانچہ حضور خود ہی فرماتے ہیں :- سمندر کے کنارے پچاند کی سیر نہایت پُر لطف ہوتی ہے۔اس سفر کراچی میں ایک دن ہم رات کو کلفٹن کی سیر کے لئے گئے۔میری چھوٹی بیوی صدیقہ بیگم سلمہا اللہ تعالے میری تینوں لڑکیاں ناصر بیگم سلمہا اللہ تعالے ، امتہ الرشید بیگم سلمہ اللہ تعالے ، امتہ العزیز سلمہا اللہ تعالے، امتہ الودود مرحومہ اور عزیزم منصور احمد سلمہ اللہ تعالے میرے ساتھ تھے۔رات کے گیارہ بجے چاند سمندر کی ہروں میں ہلتا ہوا بہت ہی بھلا معلوم دیتا تھا اور اوپر آسمان پر وہ اور بھی اچھا معلوم دیتا تھا۔"الفضل" ۱۳ امان / مارچ ۱۳۱۹ ش صفحه ۲ : +191 س "الفضل ، ہجرت / مئی ۳۱ ش " ۱۹۴۰ کے " الفضل ۳۸ هجرت منى الش ٢٨, 7197 ۶۱۹۴۰ ش که " الفضل ، ہجرت / مئی رین سفر به کانم )