تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 34 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 34

مسٹر جمشید این آر جہستہ ایم ایل اے حضرت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب آف مالیر کوٹلہ ، صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب بی۔اے حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب ، ملک صلاح الدین صاحب ایم انے اور عبدالکریم صاحب پریذیڈنٹ انیمین احمد بہ شامل تھے۔بلے پارٹی کے بعد حضور معہ قافلہ کراچی سے روانہ ہوئے اور اگلے روز یکم امان/ مارچ کو بذریعہ ناصر آباد میں قیام گاڑی کبھی پہنچے اور کنجیھی سے ناصر آباد تشریف لے گئے۔یکم امان/ مارچ کو مسجد ناصر آباد کا افتتاح کرتے ہوئے پہلی نماز جمعہ کی پڑھائی اور ایک لطیف خطبہ ارشاد فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسجد کا حق ہے کہ اُسے آباد اور صاف رکھا جائے۔اس میں بدبودار چیز کے ساتھ نہیں آنا چاہیئے اگر اس بات پر عمل کیا جائے تو ہمارے دیہات میں صفائی پیدا ہو سکتی ہے۔دیہاتی لوگ اس وقت تک بدن سے کپڑا نہیں اُتارتے جب تک پھٹ نہ بھائے۔مگر عرب کے لوگ خواہ امیر ہوں یا غریب کپڑے صاف رکھتے ہیں۔اب جبکہ مسجد بن گئی ہے اس کا حق ادا کرنا چاہئیے ازاں بعد بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نابینا صحابی حضرت عتبان میں مانیکا نے اجازت چاہتی تھی کہ وہ گھر میں نماز پڑھ لیا کریں مسجد آتے وقت ٹھوکریں لگتی ہیں۔آنحضرت نے فرمایا کہ کیا اذان کی آواز سُنائی دیتی ہے۔عرض کیا۔ہاں۔اس پر حضور نے فرمایا۔پھر گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حضور نے فرمایا کہ چونکہ زمینداروں کو باہر جا کہ کام کرنا ہوتا ہے اس لئے انہیں وقت مقرر کر لینا چاہیئے تا اُن کے کام میں حرج نہ ہو اور وہ نماز با جماعت بھی ادا کر سکیں ہے قادیان میں تشریف آوری ناصر آباد میں چند روز قیام کےبعد تصور کنی سے بذریعہ گاڑی عازم قادیان ہوئے گاڑی اورامان / مارچ کو 4 بجے شام لاہور پہنچی جہاں سے بذریعہ کار پورے سات بجے روانہ ہوئے اور تو بچ کر چالیس منٹ پر قادیان میں رونق افروز ہوئے۔احمدیہ چوک میں بہت "الفضل در امان مارچ به صفحه ۲ کالم عاه + سے مسند احمد بن حنبل جلد ۴ ص ۴۳ پر حضرت عتبان بن مالک کی یہ روایت درج ہے۔ه الفضل در امان / مارچ ش صفحه ۲ کالم مل 4 (کچھ خفیف سے لفظی تغیر کے بعد ) ۶۱۹۴۰