تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 523 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 523

۵۰۴ گئی تھی۔پس - ۱۸۸ - ۱۸۸۷ - ۱۸۸۸ تین سال ہوئے۔ان تین سالوں کو چار کونسا سال کرتا ہے؟ کرتا ہ کرتا ہے اور یہی میری پیدائش کا سال ہے۔پچیس تین کو چار کرنے والی پیشگوئی میں یہ تبر دی گئی تھی کہ اس کی پیدائش چوتھے سال میں ہوگی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ہے اور یہ جو آتا ہے "دوشنبہ ہے مبارک دوشنیہ اس کے اور معنی بھی ہو سکتے ہیں مگر میرے نزدیک اس کی ایک واضح تشریح یہ ہے کہ دو شنبہ ہفتے کا تیسرا دن ہوتا ہے۔شفیہ پہلا، یک شنبہ دوسرا اور دو شنبہ تیرا۔دوسری طرف روحانی سلسلوں میں انبیاء اور اُن کے خلفاء کا الگ الگ دور ہوتا ہے اور جس طرح نبی کا زمانہ اپنی ذات میں ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے۔اسی طرح خلیفہ کا زمانہ اپنی ذات میں ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے۔اس لحاظ سے غور کر کے دیکھو۔پہلا دور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسّلام کا تھا۔دوسرا دور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا تھا اور تیسرا دور میرا ہے۔ادھر اللہ تعالے کا ایک اور الہام اس تشریح کی تصدیق کر رہا ہے اور وہ الہام " فضل عمر" (تذکرہ حاشیہ صفحہ (۱۴) حضرت عمر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تیرے مقام پر ہی خلیفہ تھے۔پس دوشنبہ ہے مبارک دو شنبہ سے یہ مراد نہیں کہ کوئی خاص دن خاص برکات کا موجب ہو گا۔بلکہ مراد یہ ہے کہ اس کے زمانہ کی مثال احمدیت کے دور میں ایسی ہی ہوگی جیسے دوشنبہ کی ہوتی ہے۔یعنی اس سلسلہ میں اللہ تعالے کی طرف سے خدمت دین کے لئے جو آدمی کھڑے کئے جائیں گے اُن میں وہ تیسرے نمبر پر ہو گا۔" فضل عمر کے الہامی نام میں بھی اسی طرف اشارہ ہے۔گویا کلام الله يُفَتِهُ بَعْضُهُ بَعْضًا کے مطابق " فضل عمر کے لفظ نے دو شنبہ ہے مبارک دوشنبہ" کی تفسیر کر دی۔مگر اس الہام میں ایک اور خبر بھی ہے اور خدا تعالیٰ مبارک دو شنبہ اب ایک ایسے ذریع سے بھی لانے والا ہے جو میر نے اختیار میں نہیں تھا۔اور کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ میں نے اپنے ارادہ سے اور جان بوجھ کر اس کا اجراء کیا۔میں نے ۱۹۳۲ء میں تحریک جدید کو ایسے حالات میں جاری کیا جو ہرگز میرے اختیار میں نہیں تھے۔گورنمنٹ کے ایک فعل اور احرار کی فتنہ انگیزی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اس تحریک کا انقاد فرمایا اور اس تحریک کے پہلے دور کی تکمیل کے لئے میں نے دس سال میعا