تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 516
کر دی۔یہ تبلیغ میں اُن کو عربی زبان میں ہی کرتا ہوں۔جب میں انہیں تبلیغ کر رہا ہوں تاکہ باقی لوگ بھی اسلام لے آئیں تو یکدم میری حالت میں تغیر پیدا ہوتا ہے اور مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب میں نہیں بول رہا بلکہ خدا تعالے کی طرف سے الہامی طور پر میری زبان پر باتیں کی جا رہی ہیں ، جیسے تخطیہ الہامیہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان پر اللہ تعالے کی طرف سے بھاری ہوا۔غرض میرا کلام اس وقت بند ہو جاتا ہے اور خدا تعالے میری زبان سے بولنا شروع ہو جاتا ہے۔بولتے بولتے میں بڑے زور سے ایک شخص کو جو غالباً سب سے پہلے ایمان لایا تھا۔غالبا کا لفظ میں نے اس لیئے کہا کہ مجھے یقین نہیں کہ وہی شخص پہلے ایمان لایا ہو۔ہاں غالب گمان یہی ہے کہ وہی شخص پہلا ایمان ہے والا یا پہلے ایمان لانے والوں میں سے با اثر اور مفید وجود تھا۔بہر حال میں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ سر سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہے اور میں نے اس کا اسلامی نام عبد الشکور رکھا ہے۔میں اُس کو مخاطب کر کے بڑے زور سے کہتا ہوں کہ جیسا کہ پیشگوئیوں میں بیان کیا گیا ہے۔میں اب آگے جاؤں گی اس لئے اسے عبد الشکور ! تجھے کو میں اس قوم میں اپنا نائب مقرر کرتا ہوں۔تیرا فرض ہوگا کہ میری واپسی تک اپنی قوم میں توحید کو قائم کرے اور شرک کو مٹا دے اور تیرا فرض ہوگا کہ اپنی قوم کو اسلام کی تعلیم پر عامل بنائے ہیں واپس آکر تجھ سے حساب لوں گا اور دیکھوں گا کہ تجھے میں نے جن فرائض کی سرانجام دہی کے لئے مقرر کیا ہے ان کو تُو نے کہا تک ادا کیا ہے۔اس کے بعد وہی الہامی حالت جاری رہتی ہے اور میں اسلام کی تعلیم کے اہم امور کی طرف اُسے توجہ دلاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ تیرا فرض ہوگا کہ ان لوگوں کو سکھائے کہ اللہ ایک ہے اور محمد اُس کے بندہ اور اُس کے رسول ہیں اور کلمہ پڑھتا ہوں اور اس کے سکھانے کا اُسے حکم دیتا ہوں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کی اور آپ کی تعلیم پر عمل کرنے اور سب لوگوں کو اس ایمان کی طرف بلانے کی تلقین کرتا ہوں جس وقت یکیں یہ تقریر کر رہا ہوں (جو خود الہامی ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کے وقت اللہ تعالیٰ نے خود رسول اللہ صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کو میری زبان سے بولنے کی to توفیق دی ہے اور آپؐ فرماتے ہیں انا محمد عبدُهُ وَرَسُوله - اس کے بعد حضر مسیح موعود۔علیہ الصلوۃ والسلام کے ذکر پر بھی ایسا ہی ہوتا ہے اور آپ فرماتے ہیں آنا المسيح الموعود اس کے بعد میں اُن کو اپنی طرف تو یہ ولاتا ہوں چنانچہ اس وقت میری زبان پر جو فقرہ عیاری ہوا۔وہ یہ