تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 515 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 515

بت ہیں اور یہ سال میں ایک دفعہ اپنے بتوں کو نہلاتے ہیں اور اب بھی یہ لوگ اپنے بتوں کو نہلانے کی غرض سے مقررہ گھاٹ کی طرف لے جارہے ہیں اور جب مجھے اور کوئی چیز پارے بھانے کے لئے نظر نہ آئی تو میں نے زور سے چھلانگ لگائی اور ایک بت پر سوار ہو گیا۔تب میں نے سنا۔بہتوں کے پجاری زور زور سے مشرکانہ عقائد کا اظہار منتروں اور گیتوں کے ذریعہ سے کرنے لگے۔اس پر میں نے دل میں کہا کہ اس وقت خاموش رہنا غیرت کے مخلافت ہے اور بڑے زور زور سے میں نے توحید کی وقع اُن لوگوں کو دینی شروع کی اور شرک کی برائیاں بیان کرنے لگا۔تقریر کرتے ہوئے مجھے یوں معلوم ہوا کہ میری زبان اُردو نہیں بلکہ عربی ہے۔چنانچہ میں عربی میں بول رہا ہوں اور بڑے زور سے تقریر کر رہا ہوں۔روبار میں ہی مجھے خیال آتا ہے کہ ان لوگوں کی زبان تو عربی نہیں۔یہ میری باتیں کس طرح سمجھیں گے۔مگر میں محسوس کرتا ہوں کہ گو ان کی زبان کوئی اور ہے مگر یہ میری باتوں کو خوب سمجھتے ہیں۔چنانچہ میں اسی طرح ان کے سامنے عربی میں تقریہ کر رہا ہوں اور تقریر کرتے کرتے بڑے زور سے اُن کو کہتا ہوں کہ تمہارے بید ثبت اس پانی میں غرق کئے بجائیں گے اور خدائے واحد کی حکومت دنیا میں قائم کی جائے گی۔ابھی میں یہ تقیہ کر ہی رہا تھا کہ مجھے معلوم ہوا کہ اس کشتی نمائت والا جس پر میں سوار ہوں یا اس کے ساتھ کے بت والا بت پرستی چھوڑ کر میری باتوں پر ایمان لے آیا ہے اور موقد ہو گیا ہے۔اس کے بعد اثر پڑھنا شروع ہوا۔اور ایک کے بعد دوسرا، اور دوسرے کے بعد تغییرا، اور تغیرے کے بعد چو تھا اور چوتھے کے بعد پانچواں شخص میری باتوں پر ایمان لاتا ، مشرکانہ باتوں کو ترک کرے اور مسلمان ہوتا چلا جاتا ہے۔اتنے میں ہم جھیل پار کر کے دوسری طرف پہنچ گئے۔جب ہم جھیل کے دوسری طرف پہنچ گئے تومیں حکم دیتا ہوں کہ ان میتوں کو جیسا کہ پیشگوئی میں بیان کیا گیا تھا، پانی میں غرق کر دیا جائے۔اس پر جو لوگ موحد ہو چکے ہیں وہ بھی اور جو ابھی موقد تو نہیں ہوئے مگر ڈھیلے پڑ گئے ہیں ، میرے سامنے جاتے ہیں اور میرے حکم کی تعمیل میں اپنے بتوں کو جھیل میں غرق کر دیتے ہیں اور میں خواب میں حیران ہوں کہ یہ تو کسی تیرنے والے مادے کے بنے ہوئے تھے یہ اس آسانی سے جھیل کی تہہ میں گیس طرح چلے گئے۔صرف پجاری پکڑ کر اُن کو پانی میں غوطہ دیتے ہیں اور وہ پانی کی گہرائی میں جاکر بیٹھ بناتے ہیں۔اس کے بعد میں کھڑا ہو گیا اور پھر انہیں تبلیغ کرنے لگ گیا۔کچھ لوگ تو ایمان لا چکے تھے مگر باقی قوم جو ساحل پر تھی۔ابھی ایمان نہیں لائی تھی۔اس لئے میں نے اُن کو تبلیغ کرنی شروع