تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 495 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 495

میں پرتضور نے مولوی عبداللہ صاحب سنوری کو دیا بلوا لیا اور شیخ مہرعلیشاہ صاحب رکھیں ہوشیار پور کے نام خط لکھا کہ میں دو ماہ کے لئے ہوشیار پور آنا چاہتا ہوں۔کسی ایسے مکان کا انتظام کر دیں جو شہر کے کنارے یہ ہو اور اس میں بالا خانہ بھی ہو۔علاوہ ازیں ۱۳ جنوری شاہ کو اپنے مخلص مرید چودھری رستم علی صاحب (مدار ضلع جالندھر) کو اطلاع دی کہ : اس خاکسار نے حسب ایمار خداوند کریم۔۔۔اس شرط سے سفر کا ارادہ کیا ہے کہ شب و روز تنہا ہی رہے اور کسی کی ملاقات نہ ہو اور مخداوند کریم جلتا نہ نے اس شہر کا نام بتا دیا ہے جس میں کچھ مدت بطور مغلوت رہنا چاہیئے اور وہ ہوشیار پور ہے۔آپ کسی پر ظاہر نہ کریں کہ بھر چند دوستوں کے اور کسی پر ظاہر نہیں کیا گیا ہے کہ چنانچہ اس پروگرام کے مطابق سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پہلی میں بیٹھ کر دریائے بیاس کے رستے ۲۲ جنوری دار (مطابق ۱۵ ربیع ثانی اه) بروز جمعہ ہوشیار پور تشریف لے گئے۔اس مقدس سفر میں حضرت اقدس کے ساتھ حضور کے مخلص مُریدوں میں حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری اور حضرت شیخ حامد علی صاحب کے علاوہ ایک صاحب فتح خان (ساکن رسول پور متصل ٹانڈہ ضلع ہوشیار پور بھی تھے۔ہوشیار پور میں حضرت اقدس طویلہ شیخ مہرعلی صاحب کے ایک بالاخانہ پر فروکش ہوئے اور پوری خلوت نشینی اختیار فرماتے ہوئے چلہ کشی کی بچنا نچہ حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنفورتی کا بیان ہے کہ :۔ہ ہم راستہ میں فتح خاں کے گاؤں میں قیام کرتے ہوئے دوسرے دن ہوشیار پور پہنچے۔وہاں جاتے ہی حضرت صاحب نے طویلہ کے بالا خانہ میں قیام فرمایا اور اس غرض سے کہ ہمارا آپس میں کوئی جھگڑا نہ ہو، ہم تینوں کے الگ الگ کام مقرر فرما دیئے بچنا نچہ میرے سپرد کھانا پکانے کا کام ہوا۔فتح خاں کی یہ ڈیوٹی لگائی کہ وہ بازار سے سودا و فیولایا کرے۔شیخ صاد ملی کایہ کام مقدر ہو کہ گھر کا بالائی کام اور آتے ه حضرت مولوی عبدالله صاحب سنوری کو یہ خصوصیت بھی حاصل تھی کہ شملہ میں عالمگیر دعوت نشان نمائی کیلئے جو دو ہزار انگریزی اشتہار نور نے شائع فرمائے تھے ان کی چھپوائی اور قادیان میں لانے کا انتظام حضور نے انہی کے سپرد فرمایا تھا ملاحظہ ہو مکتوب حضرت مسیح موعود مورخہ 9 فروری شنار مشموله مکتوبات احمدید جلد پنجم نمبر انجم صفحه ۱۵۲) کے ہوشیار پور پہنچنے کی اس تاریخ کی تعیین خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ اور تقویم شمسی کی روشنی میں بآسانی ہوسکتی ہے اور وہ اس طرح کہ حضور نے ، چوری مسئلہ کو حضرت چو بردی رستم علی صاحب مدار ضلع جالندھر کے نام خط لکھا کہ اس وقت روانگی براہ راست ہوشیار پور، تجویز ہوکر کل انشاءاللہ یہ ماجدہ روانہ ہو جاوے گا۔بعد ازاں ۲۲ جنوری شملہ کو بذریعہ مکتوب اطلاع دی که یه عاجز بروز جمعہ بخیر و عافیت ہوشیار پور پہنچ گیا ہے (مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر سوم صفحہ ۱۰-۱۱) اب اگر یہ حساب کیا جائے کہ ۸ار اور ۲۶ جنوری کے درمیان جمعہ کا دن کس تاریخ کو آتا ہے تو وہ ٹھیک ۲۲ جنوری شششانہ ہی کی تاریخ بنتی ہے ، حضرت الصلح الموعود فرماتے ہیں: "حضر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ۲۱ جنوری شاہ کو روانہ ہوئے اور ایک رات رسول مظہر تے ہوئے ۲۲ جنوری جمعہ کے دن وہاں پہنچے گئے (الموجود و صفحه ۱۲ )