تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page v
بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَ عَلَى رَسُو الكريم - تصل عَبْدِهِ المَسيح الموحد تاریخ احمدیت جلد نهم در قم نمودن مکرم و محترم بود هری معموظف الله خالص اسب) یہ امر میرے لئے باعث خوشی ہے کہ امسال ادارۃ المصنفین کی طرف سے تاریخ احمدیت کی تویں جلد احباب کے سامنے پیش کی جا رہی ہے۔عنوانات پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لود سی اسلہ کے بہت ہی اہم واقعات پر مشتمل ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جو قومیں اپنی تاریخ کو زندہ رکھتی ہیں اُن کی تاریخ انہیں زندہ رکھتے ہمیں ممد و معاون ثابت ہوتی ہے۔اور اپنے اسلامت کو بھلا دینے والی تو میں رفتہ رفتہ بھولی بسری قوموں کے انبود یں شامل ہو کر اپنی انفرادیت کو کھو دیتی ہیں لیکن وہ قومیں جو دنیا وی شیتوں اور بندھنوں سے تالیف پاتی ہیں اُن سے کہیں زیادہ مذہبی قوموں کا فرض ہوتا ہے کہ اپنی تاریخ اور اپنے اسلام کے اعمال اور کردار کو زندہ و پائندہ رکھیں۔دنیاوی قوموں کی تاریخی تو بسا اوقات یاد رکھنے کے قابل واقعات سے ہی خالی ہوتی ہے بلکہ اکثر و بیشتر کم حق تلفی ، خود فراموشی اور خدا فراموشی کے واقعات کی کثرت کے باعث انتہائی بد زیب اور بھیانک نظر آتی ہے اس کے باد خود دنیا وی تو میں اپنے اسلامت کی یادوں کو زندہ رکھنے کے لئے کثیر اموال صورت کر کے اپنی تاریخ کے مٹتے ہوئے باریک نقوش کو محفوظ کرنے میں ہمیشہ کوشاں نہ بتی ہیں پھر کیا نہ ہی اقوام کا اس سے کہیں زیادہ یہ فرض نہیں کہ حقائق پر مشتمل اپنی قمیتی تاریخ کو محفوظ کرنے کی پوری کوشش کریں۔