تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 437 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 437

(۲) اس سے قبل نے ہمارے جلسہ کا اعلان الفضل میں پڑھنے کے بعد 14 جون کو اپنے بورڈ پر قادیان میں اعلان کیا کہ بھا مڑی میں ہم بھی۔ارجون کو جلسہ کریں گے۔(س) جلسہ سے ایک روز قبل کے بورڈ کی اطلاع پا کر جناب چودھری فتح محمد صاحب انچارج مقامی تبلیغ نے مولوی احمد خان صاحب نسیم کو اور مولوی عبد العزیز صاحب سکنہ بھاڑی کو سری گویند پور کے تھانیدار کے پاس رپورٹ دینے کے لئے بھیجا کہ بھا مڑی والے فساد پر آمادہ ہیں مگر افسوس کہ تھانیدار صاحب نے یہ رپورٹ روز نامچہ میں درج نہیں کی۔(۴) جب میں سپرنٹنڈنٹ صاحب کے سامنے بیان دے چکا تو ڈی۔ایس پی صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ میر صاحب آپ یہ فرما دیں کہ جب آپ کا جلسہ ختم ہو چکا تو پھر بھڑی والوں نے فساد کیوں کیا ؟ اگر ان کی فساد کی نیت ہوتی تو سیلیسہ کے دوران میں کرتے۔میں نے کہا کہ یہی موقعہ تو فساد کا تھا۔کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ہم جلسہ کر سکیں اور ہمارے عیسہ کو روکنا چاہتے تھے۔مگر جب ہم جلسہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو انہیں اپنی ناکامی کی وجہ سے اشتعال پیدا ہوا۔اور انہوں نے اس کا انتقام فساد کے ذریعہ لیا۔(۵) ایک بات میں نے سپرنٹنڈنٹ صاحب اور ڈی۔الیں۔پی صاحب کو یہ کہی تھی کہ آپ یہ نقطۂ خیال کبھی نہ بھٹو نہیں کہ اگر ہماری طرف سے اشتعال دلایا گیا اور فساد ہوا تو عجیب بات ہے کہ ہم لوگ ایک لمبا فاصلہ گاؤں کے اندر طے کرتے رہے مگر انہیں اشتغال نہ آیا۔مگر جب ہمارے لوگ اور وہ بھی طالب علم اور بچے اس خوبی کے پاس سے گزرے جہاں پر بہت سی اینٹیں ڈھیر کی صورت میں جمع تھیں اور جہاں ہمارے مخالفین دوسو کی تعداد میں جمع تھے وہاں کیوں اشتعالی آگیا۔میں نے کہا۔آپ یہ سوچیں کہ ہمارے مخالف اور کسی حویلی میں کیوں نہیں جمع ہوئے۔کیوں حاجیوں کی حویلی میں جمع تھے یہاں اینٹیں جمع تھیں۔کیا یہ دونوں اجتماع اتفاق سے ہو گئے علاوہ اس کے بعد میں معلوم ہوا کہ وہاں مخالفوں کا ٹھیاں بھی جمع کر رکھی تھیں اور زیر تعمیر عمارت کے بالے وغیرہ بھی پڑے تھے (4) میں نے اپنے بیان میں نیہ بھی لکھایا تھا کہ اگر ہماری نیت فساد کی تھی تو کیا وجہ ہے کہ (الف) مدرسہ احمدیہ کے پھوٹے سے چھوٹے طالب علم بھی میں جلسہ میں لایا۔(ب) میں اپنے تینوں لڑکوں کو ہمراہ لایا۔(ج) حافظ کلاس کے آٹھ کم عمر اندھوں کو ہمراہ لایا۔(د) ہم لوگ کثرت کے ساتھ بغیر لاٹھی کے آئے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہم تساد کی نیت سے نہیں آئے۔(۷) میں اور تھا نصاحب مولوی قرتند علی صاحب اور مولوی دل محمد صاحب فساد کے دوسرے روز سپرنٹنڈنٹ