تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 412
چوتھا باب و یا اینا یا ان کے مایا اس سے ایک ایک کالا ای بر یک وضاحتی خلافت تانیہ کا تیسواں سال محرم ۱۳۹۳ مه مطابق صلح جنوری ۱۳۲۳/۰۶ فصل اوّل اس سال کے شروع میں ایک ایسا واقعہ ہوا اس نے مہندا است ترکی و ال ام المومنین و ناخی خطبہ میں یک جوان پیدا کردی تھی اس جمال کی یہ ہے کہ ان دنوں ترک اخبار نویسوں کا ایک دفعہ دورہ کرتے ہوئے لاہور پہنچا تو اس کے لیڈر موسیو عطائی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم پہلے ترک ہیں پھر مسلمان تیر کہا کہ سفرمیں روزانہ منہ کی ضرورت نہیں ہے۔علاوہ ازیں جن بوابات انہوں نے ایسے دیئے یا ہندوستانی پر میں نے ان کی طرف منسوب کر کے شائع کئے جو مسلمانان ہند کے ایک حصہ کے لئے افسوس اور دوسرے حصہ کے لئے پریشانی کا باعث بت بیچنا نچہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری، مدیر اہلحدیث “ (امرتسر) نے لکھا:۔اپور میں اختبار نویسوں کی طرف سے ترکی وفد کوئی پارٹی دعوت بچائے، دی گئی جس میں رئیس وفد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم پہلے ترک ہیں پھر مسلمان " اس فقرہ سے ہم نے ترکوں کی اسلامی عقیدت کا خونشتر پایا ہے اس سے ہمیں سخت صدمہ ہوا۔اس فقرے کا واضح اور صاف مطلب یہ ہے کہ تم کی قوم کی رسوم معاشرت اور سیاست ان کے نزدیک اسلامی رسوم اور معاشرت سے مقدم ہیں مثلاً بعض جرائم پر جو سزائیں شرع شریعت میں آئی ہیں تم کی قوانین کے خلاف ہوں تو ان کے ملکی قوانین ان کے نزدیک مقدم ہیں اور اسلامی احکام موخر ایسا کہنا اور کرنا اسلام کے صریح خلافت ہے۔ارشاد ہے : مَا كَانَ ل الفضل صلح اینوریا صفحہ امیں پر بھاٹ کے حوالہ سے ان جوابات کی تفصیل شائع شدہ ہے ؟