تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 404 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 404

۳۹۳ خوش ہو کہ ہماری مائی کا اچھے دن میں بہت سے رانا کیا اور خار دارای مجزا امیر آتے وقت خاکسار نے نابلس میں بھی قیام کیا اور دعوت حق پہنچائی وہاں پر حال ہی میں دو نوجوانوں نے بیعت کی ہے۔انہوں نے خاکسار کی دعوت کی اور اپنے دیگر اعزہ کو پیغام حق پہنچایا۔اپنی ابلیس کی ذہنیت عجیب واقعہ ہوئی ہے۔وہ میں فتنہ پردازی کا یہی شہر اور ا سکے نواحی دیہات مرکزی نقطہ تھے خاکسار کے آنے جانے کے بعد وہاں کے علماء کی طرف سے احمدی احباب کو قتل وغیرہ کی دھمکیاں دی گئیں۔اور اب بھی ان کی مخالفت زوروں پر ہے اللہ تعالی بہار احمدی احباب کا حافظ و ناصر ہو۔اور اُن کو ہر قسم کے مکروہات سے محفوظ رکھے۔الغرض یہ مضر خداتعالی کے فضل پر لانا بہتر ہے۔احمد ندای والامل شام مشن مبلغ فلسطین کو شام بھجوایا۔آپ میکم اور اکتوب اس کو فلسطین سے شام پہنچے نیام جماعت احمدیہ دمشق کی درخواست پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مولوی محمد شریف صاب ۱۳ ۶۱۹۴۲ میں اُن دنوں جماعت کے خلاف سخت جوش تھا۔کئی مشائخ مثلاً الشيخ صابونی اور الشیخ جو بجانی وغیرہ۔مناظرہ کی دعوت دے رہے تھے۔اور ایک شیخ تو مباہلہ کا چیلینج بھی دے چکا تھا۔ماہ تبوک دستمبر میں تین و شقی احمدیوں الاستاذ منير الحسنی صاحب، الحاج عبد الرؤدت الحسنی صاحب اور الاستاذ شفیق شعیب صاحب وغیرہ کو زد و کوب کیا جا چکا تھا۔الاستاذ شفیق سیب اور الاستاذ غیر ملکی ابھی داخل سلسلہ ہوئے تھے السی علماء دمشق سخت غضب ناک تھے۔مولوی محمد شریف صاحب نے یہاں با قاعدہ ایک پر نگرام کے ماتحت کام شروع کر یا۔اور روزانہ انفرادی طاقاتوں کے ذریعہ اکابر مشتق تک دعوت احمدیت پہنچانے لگے۔یہ سب صحاب نہایت چین سلوک سے پیش آئے اور پیغام حق نہایت توجہ سے سُنا۔ان اکابرین سے الشیخ عبد القادر المغربی بھی تھے جنہوں نے ۱۹۲۴ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سے دوران نزول دمشق کہا تھا کہ یہاں کوئی شخص احمدیت کو قبول نہیں کریگا جس پر حضور نے سفیر ولایت سے واپسی پر حضرت سیتار زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور مولانا جلال الدین حساب شت کو بھیجگر دشت میں احمدیہ شن قائم کر دیا اور کئی سعادتمند احمدیت میں شامل ہو گئے۔خود اشیخ عبدالقادر المغربی کے مسئلہ حیات مسیح کے بارے میں خیالات میں انقلاب آگیا اور وہ وفات مسیح کے قائل ہو چکے تھے۔اور جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات کی تعریف کرتے تھے۔جماعت کی طرف سے شام میں چونکہ کوئی ٹریکٹ نہیں شائع کیا جا سکتا تھا اسلئے مولوی محمد شریف صاحب نے مشائخ دمشق کو زبانی پیغامات بھیجوائے کہ وہ مرد میدان نہیں اور باقاعدہ مناظرہ کریں اور مباہلہ بھی بیشتر میکہ شام کے پچاس مشاہیر علماء اس میں شامل ہوں تا لوگوں پر حق و باطل واضح ہو جائے مگر کسی الفضل در خور هاشم به راگست ۱۹۳۲ صفحه و دی :