تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 397
PAY کی راتوں میں جگہ وہ اپنے کھیتوں میں کھڑے پانی دے رہے تھے ایک روشنی دیکھی اس روشنی میں دیکھا کہ فرشتے ایک پالکی اٹھائے لئے آرہے ہیں۔اس نظارہ کے متعلق میرا یہی خیال رہا ہے کہ ان کو دکھایا گیا کہ ان کی اولاد سے ایک خوش قسمت خاتون پیدا ہوگی جن کے لئے یہ مقلد تھا کہ وہ نو عمری کی حالت میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں حاضر ہوئیں اور اپنی ساری عمر سیح کی بستی میں گزاری۔اور آخر خدا کے فضل سے حضرت فضل عمر سے نماز جنازہ کا شرف حاصل کرتے ہوئے اور بہت سے بزرگوں اور خواتین کی دعائیں ساتھ لیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں میں پہنچ گئیں۔اور اس پر اللہ تعالے نے مزید احسان یہ کیا کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے جنازہ کو کندھا دیا۔۔۔ابتدائی زمانہ میں مرحومہ کو دار سیخ موجود میں رہنے کا فخر حاصل ہوا۔اوائل عمر میں ان کو ہسٹریا کے دورے بھی ہو جایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک دن سخت دورہ ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الہ لوة و السلام کو اطلاع دی گئی۔آپ نے دعا بھی کی اور دوا بھی دی۔مرحومہ کہا کرتی تھیں کہ یہ آخری دورہ تھا جو مجھے کو ہوا۔اور یہ بات وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشان کے طور پر ذکر کیا کرتی تھیں اسی طرح وہ اور نشانات کا ذکر بھی کیا کرتی تھیں"۔مندرجہ ذیل مخلصین بھی اس سال دار فانی سے رحلت کر گئے :۔بعض دو ستر مخلصین کی وفات) ا خواجہ عبد الرحمن صاحب کارکن الفضل و این حضرت میان شادی خان صاحب) ۲ صوبیدار خوشحال خان مادر شهید مینی تحصیل صوابی ضلع مردان شاه سی ڈاکٹر احمد خان صاحب شیخ پور ضلع گجرات میگه بهام به مولوی محمد عثمان صاحب ضلع بستی دیو۔پی ) ہے ه الفضل در تبوک دسمبر، هاله صفحه ۰۵۰۴ ۵۲ وفات ۱۳ در بحرت (سی) هم عمر ۵۲ سال (الفضل م ۶۱۹ 7195 ها صفحه ۲ کالم ۰۳ ۵۳ تاریخ شہادت ۲۹ ماه هجرت (دستی) ام الفضل کے راجستان (جون) ۶۱۹۴۲ ۱۶ هجرت رسمی همه ۱۲ - ه صفحه ۳ شه وفات ۲۴ ظهور (اگست، هم بعمر یم ، سال را الفضل ها را خار داکتون ها معمره ۶۱۹۴۲ ه تاریخ وفات ۲۸ ر تبوک دستمبر والفضل ارماه افاد (اکتوبی ۱۳:۲۵ صفحه ۲ +